سعودی عرب کی حوثی ڈرون حملے کی شدید مذمت
سعودی وزارت خارجہ نے حوثی ملیشیا کی جانب سے مکہ مکرمہ کی سمت ڈرون بھیجنے کی شدید مذمت اور اس پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔
اہم نکات
AIسعودی وزارت خارجہ نے حوثی دہشت گرد ملیشیا کی جانب سے منگل 4 ربیع الآخر 1448ھ، مطابق 15 ستمبر 2026ء کو مکہ مکرمہ کی سمت ایک دشمن ڈرون طیارہ بھیجنے کی شدید مذمت اور اس پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔
سعودی عرب نے اس بزدلانہ دہشت گرد حملے کو حرم شریف، سرزمینِ رسالت، وحی کے مرکز اور مسلمانوں کے قبلے پر حملہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ حوثی ملیشیا کی جانب سے مقدس مقامات کو نشانہ بنانے اور ان کی حرمت پامال کرنے کی مسلسل کوششوں کا اعادہ ہے، جو دنیا بھر کے مسلمانوں کے جذبات کو بھڑکانے کے مترادف ہے۔ واضح رہے کہ یہ مکہ مکرمہ کو نشانہ بنانے کی حوثی ملیشیا کی دوسری کوشش ہے، اس سے قبل پہلی کوشش 27 جولائی 2017ء کو کی گئی تھی۔
سعودی عرب نے شاہی فضائی دفاعی افواج کی بروقت کارروائی اور چوکسی کو سراہا، جنہوں نے اس حملے کو روک کر ڈرون کو مقدس دارالحکومت مکہ مکرمہ کے ممنوعہ فضائی حدود میں داخل ہونے سے پہلے ہی تباہ کر دیا۔
سعودی عرب نے ایک بار پھر عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ان سنگین حملوں کی مذمت کرے اور حوثی دہشت گرد ملیشیا کی جانب سے مقدس مقامات، شہری و اقتصادی تنصیبات پر حملوں اور بین الاقوامی تجارتی جہازرانی کو لاحق خطرات کے خلاف سخت موقف اختیار کرے۔
سعودی عرب نے اپنے اس جائز حق کا اعادہ کیا ہے کہ وہ حرمین شریفین، زائرین، ملک کی سرزمین، شہریوں اور مقیم افراد کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کا حق رکھتا ہے۔
