سعودی عرب نے فرانسیسی سرمایہ کاری کے لیے دروازے کھول دیے
پیر کو پیرس میں سعودی فرانسیسی سرمایہ کاری اجلاس کا آغاز ہوا، جس میں سعودی عرب نے فرانسیسی سرمایہ کاروں کو مزید مواقع فراہم کرنے کا عزم ظاہر کیا۔
اہم نکات
AIپیر کے روز فرانسیسی دارالحکومت پیرس میں سعودی فرانسیسی سرمایہ کاری راؤنڈ ٹیبل اجلاس کا آغاز ہوا، جس میں سعودی عرب نے بین الاقوامی سرمایہ کاروں کے لیے اپنی مارکیٹ کے کھلے پن اور فرانس کے ساتھ اقتصادی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا۔
وزیر سرمایہ کاری فہد السیف نے اجلاس سے خطاب میں کہا کہ سعودی عرب کے دروازے تمام سرمایہ کاروں کے لیے کھلے ہیں اور مملکت فرانسیسی سرمایہ کاری کو مزید فروغ دینے کی خواہاں ہے۔ انہوں نے بتایا کہ سعودی عرب اب تک سیکڑوں فرانسیسی کمپنیوں کو سرمایہ کاری کے لیے راغب کر چکا ہے، جبکہ تیل و گیس کا شعبہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات سے سب سے زیادہ مستفید ہونے والوں میں شامل ہے۔
فہد السیف نے مزید کہا کہ سعودی مالیاتی مارکیٹ تیزی سے وسعت اختیار کر رہی ہے۔ اس موقع پر سعودی وزارت خزانہ نے 'بی پی آئی فرانس' کے ساتھ 5 ارب ڈالر کے کریڈٹ لائن معاہدے پر دستخط بھی کیے۔
فرانس 2024 میں سعودی عرب میں براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کرنے والے ممالک میں چوتھے نمبر پر ہے، جس کی مجموعی مالیت 16.3 ارب یورو ہے۔ فرانسیسی براہ راست سرمایہ کاری میں سے تقریباً 60 فیصد حصہ مینوفیکچرنگ سیکٹر کا ہے۔
فرانسیسی کمپنیاں سعودی عرب میں صنعت، توانائی، ٹرانسپورٹ اور تعمیرات سمیت کئی شعبوں میں اپنی موجودگی کو بڑھا رہی ہیں، جبکہ وہ مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل انفراسٹرکچر، ثقافت اور معدنیات جیسے نئے شعبوں میں بھی داخل ہو رہی ہیں۔
سعودی عرب اور فرانس کے درمیان دو طرفہ تجارت کا حجم 2025 میں 10.1 ارب یورو رہا، جس میں سالانہ 7.2 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ مملکت میں فرانسیسی سرمایہ کاری کے 651 لائسنس 18 مختلف شعبوں میں تقسیم ہیں۔
دوسری جانب، سعودی پبلک انویسٹمنٹ فنڈ نے 2017 سے 2024 کے دوران فرانس میں تقریباً 7.36 ارب یورو کی سرمایہ کاری کی، جو دونوں ممالک کے درمیان دو طرفہ سرمایہ کاری کے مضبوط تعلقات کی عکاسی کرتی ہے۔
