روسی فوج کا بحیرہ اسود میں اسلحہ بردار دو مال بردار جہازوں پر حملہ
روسی وزارت دفاع نے اعلان کیا ہے کہ اس کی افواج نے یوکرینی فوج کے ایندھن کے ذخائر اور بحیرہ اسود میں اسلحہ و فوجی سازوسامان سے لدے دو مال بردار جہازوں کو نشانہ بنایا ہے۔
اہم نکات
AIروسی وزارت دفاع نے آج اعلان کیا ہے کہ روسی افواج نے یوکرینی مسلح افواج کے زیر استعمال ایندھن کے ذخائر کو یوژنی بندرگاہ میں اور بحیرہ اسود میں اسلحہ اور فوجی سازوسامان سے لدے دو مال بردار جہازوں کو نشانہ بنایا ہے۔
وزارت دفاع نے اپنے بیان میں، روسی خبر رساں ایجنسی 'اسپوتنک' کے مطابق، کہا کہ روسی مسلح افواج یوکرینی بندرگاہی انفراسٹرکچر اور یوکرینی فوج کے زیر استعمال بحری جہازوں کو مسلسل نشانہ بنا رہی ہیں۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ بحیرہ اسود میں اسلحہ اور فوجی سازوسامان لے جانے والے دو خشک مال بردار جہازوں کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے۔
وزارت دفاع نے نشاندہی کی کہ روسی فوج یوکرینی افواج کے زیر استعمال بندرگاہوں اور ذخیرہ گاہوں کو روزانہ کی بنیاد پر نشانہ بناتی ہے۔ روسی وزارت خارجہ کے سفیر برائے خصوصی امور رودین میروشنیك نے واضح کیا کہ کییف حکومت اس بحری راستے کو چوبیس گھنٹے اسلحہ کی ترسیل کے لیے استعمال کر رہی ہے۔
بیان کے مطابق، وزارت نے بارہا اس بات کی تصدیق کی ہے کہ وہ یوکرینی افواج کے فائدے کے لیے استعمال ہونے والے انفراسٹرکچر کو نشانہ بناتی ہے تاکہ کییف حکومت کی فوجی اور معاشی صلاحیتوں کو کم کیا جا سکے۔ اس مقصد کے لیے روسی افواج ڈرونز اور طویل فاصلے تک مار کرنے والے جدید ہتھیار استعمال کر رہی ہیں جو کییف میں کسی بھی ہدف کو تباہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
