سعودی عرب میں نظامِ تعلیم عامہ کی منظوری کا شاہی فرمان جاری
خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے نظامِ تعلیم عامہ کی منظوری دے دی، جس کا مقصد تعلیمی معیار اور حکمرانی کو بہتر بنانا ہے۔
اہم نکات
AIخادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود نے نظامِ تعلیم عامہ کی منظوری کے لیے شاہی فرمان جاری کیا ہے، جس کا مقصد حکمرانی کے ڈھانچے کو مضبوط بنانا اور اس کے اہداف کے حصول کے لیے ضروری سہولیات فراہم کرنا ہے، تاکہ تعلیمی ماحول اور اس کے نتائج کے معیار کو بلند کیا جا سکے۔
اس نظام کا مقصد نجی اور غیر منافع بخش شعبوں کے کردار کو منظم کرنا ہے، تاکہ وہ سعودی وژن 2030 کے اہداف کے مطابق تعلیم میں اپنا کردار ادا کر سکیں اور مملکت میں تعلیمی نظام کی ترقی کی توقعات سے ہم آہنگ رہیں۔
اس موقع پر وزیر تعلیم پروفیسر یوسف بن عبداللہ البنیان نے قیادت کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ اس منظوری سے تعلیم عامہ کی ترقی کی راہ میں اہم پیش رفت ہوگی اور نظام کی تنظیمی و عملی کارکردگی کو مزید مضبوط بنایا جا سکے گا۔
حکمرانی میں بہتری اور شراکت داری کا فروغ
یہ نظام وزارت تعلیم، مجلس امور تعلیم عامہ اور متعلقہ اداروں کے کردار کو واضح کرکے تعلیمی پالیسیوں، منصوبوں اور پروگراموں کی ہم آہنگی کو فروغ دیتا ہے، فیصلہ سازی کی صلاحیت کو بڑھاتا ہے اور وزارت کو تنظیم، نگرانی اور جائزے کے اوزار بہتر بنانے کا اختیار دیتا ہے۔
اسی طرح یہ نظام نجی اور غیر منافع بخش شعبوں کی تعلیمی خدمات میں شمولیت کو منظم کرتا ہے اور واضح ضوابط کے ذریعے سرمایہ کاری اور شراکت داری کو فروغ دیتا ہے، جس سے تعلیمی خدمات کے معیار میں اضافہ، تعلیمی مواقع میں وسعت اور سرکاری و نجی تعلیمی اداروں کی ترقی کو پائیدار بنایا جا سکے۔
حقوق کا تحفظ اور مختلف طبقات کی معاونت
یہ نظام تعلیم میں انسانی حقوق، طلبہ و اساتذہ کے حقوق کے تحفظ اور محفوظ و حوصلہ افزا تعلیمی ماحول کی فراہمی کو یقینی بناتا ہے، جس سے تعلیمی عمل کے معیار اور طلبہ کے تجربے میں بہتری آئے گی، نیز تعلیمی سفر میں خاندان کے کردار کو مضبوط کیا جائے گا۔
نظام کے تحت ابتدائی بچپن کی تعلیم و نگہداشت کے معیار کو بہتر بنانے، معذور طلبہ کی ضروریات کے مطابق تعلیمی و معاون خدمات فراہم کرنے اور باصلاحیت طلبہ کی سرپرستی و صلاحیتوں کی نشوونما پر بھی خصوصی توجہ دی گئی ہے، تاکہ طلبہ کی متنوع ضروریات کا خیال رکھا جا سکے۔
اسی تناظر میں وزارت تعلیم آئندہ مرحلے میں متعلقہ اداروں کے ساتھ مل کر نظام کے نفاذ کے لیے انتظامی و عملی ضوابط کو مکمل کرے گی، تاکہ اس پر واضح حکمت عملی کے تحت عمل درآمد ہو اور تعلیم عامہ کی ترقی اور اس کے نتائج کے معیار کو بلند کرنے کے اہداف حاصل کیے جا سکیں۔
واضح رہے کہ نظامِ تعلیم عامہ میں تعلیمی مراحل، مجلس امور تعلیم عامہ، تعلیمی اداروں، تعلیمی راستوں، ای لرننگ، مسلسل تعلیم، تعلیمی ماحول اور طلبہ و اساتذہ کے حقوق سے متعلق متعدد ضوابط شامل ہیں۔
