خطيب مسجد نبوی کا حرمین پر حملوں اور خوف پھیلانے سے خبردار
شیخ عبدالمحسن القاسم نے خطبہ جمعہ میں حرمین شریفین کی حرمت اور ان پر حملوں کی سنگینی پر زور دیا اور امن میں خلل ڈالنے کو بڑا جرم قرار دیا۔
اہم نکات
AIامام و خطیب مسجد نبوی شیخ ڈاکٹر عبدالمحسن القاسم نے آج مسجد نبوی میں جمعہ کا خطبہ دیا، جس میں انہوں نے اللہ تعالیٰ کی حکمت اور اس کی تقدیر پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ اللہ کے تمام افعال حکمت اور رحمت پر مبنی ہیں اور بندوں کو جو نعمتیں یا آزمائشیں ملتی ہیں، وہ اسی کی تقدیر سے ہیں۔
شیخ قاسم نے واضح کیا کہ لوگوں کے اخلاق، عقل، رزق اور معاش میں فرق اللہ کی حکمت کا مظہر ہے، تاکہ لوگ ایک دوسرے سے فائدہ اٹھائیں اور معاشرتی مفاد حاصل ہو۔ اس حوالے سے انہوں نے قرآن کی آیت پیش کی: (نَحْنُ قَسَمْنَا بَيْنَهُم مَّعِيشَتَهُمْ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا...)
انہوں نے مزید کہا کہ اللہ ہی رزق دینے والا اور اپنی مخلوق میں اپنی حکمت کے مطابق تصرف کرنے والا ہے۔ وہ اپنے علم کے مطابق بندوں کے لیے رزق مقرر کرتا ہے، اور اگر ضرورت سے زیادہ رزق دے دیا جائے تو وہ زمین میں سرکشی اور ظلم کا باعث بن سکتا ہے۔ اس پر انہوں نے قرآن کی آیت پیش کی: (وَلَوْ بَسَطَ اللَّهُ الرِّزْقَ لِعِبَادِهِ لَبَغَوْا فِي الْأَرْضِ)۔ انہوں نے کہا کہ اللہ کی طرف سے رزق میں کمی یا زیادتی اس کی عظیم حکمت کے مطابق ہے۔
انہوں نے بیان کیا کہ اللہ نعمتوں کے ذریعے بھی آزماتا ہے اور آزمائشوں کے ذریعے بھی نعمت عطا کرتا ہے، تاکہ درجات بلند ہوں اور گناہ معاف ہوں۔ فقر و دولت دونوں ہی آزمائش کی صورتیں ہیں، جن کی حکمت انسان پر مخفی رہ سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ رزق کی فراوانی اللہ کی محبت کی دلیل نہیں اور نہ ہی فقر اس کے غضب کی علامت ہے، بلکہ اصل معیار ایمان، تقویٰ اور نیک عمل ہے۔
فضیلت کا معیار اور صبر و شکر کی اہمیت
انہوں نے کہا کہ انبیاء اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں بھی دولت اور فقر کا فرق تھا، لیکن مال و دولت فضیلت کا معیار نہیں تھا، بلکہ ایمان، تقویٰ اور نیک عمل ہی اصل فضیلت ہے۔ اس پر انہوں نے قرآن کی آیت پیش کی: (إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِندَ اللَّهِ أَتْقَاكُمْ)۔
انہوں نے واضح کیا کہ صبر اور شکر دونوں مومن کے لیے لازم ہیں۔ دولت مند کو چاہیے کہ اللہ کی نعمت پر شکر کرے اور غریب کو چاہیے کہ آزمائش پر صبر کرے۔ بعض اوقات انسان کی زندگی میں صبر اور شکر دونوں جمع ہو جاتے ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی صبر اور شکر میں کامل نمونہ پیش کیا۔
حرمین شریفین کی عظمت اور ان پر حملوں سے خبردار
خطبے کے اختتام پر امام مسجد نبوی نے مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کی عظمت اور فضیلت کو اجاگر کیا اور ان کی حرمت، امن، املاک، تعلیمی اداروں اور مساجد کے تحفظ کی اہمیت پر زور دیا۔
شیخ قاسم نے حرمین شریفین پر حملوں اور ان میں امن و امان کو متاثر کرنے سے سختی سے خبردار کیا اور اسے عظیم جرم قرار دیا۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ حوثی ملیشیا کی جانب سے حرمین کے امن کو نشانہ بنانے والی جارحانہ کارروائیاں جاری ہیں۔ اس ضمن میں انہوں نے اصحاب فیل کے واقعے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان کا حوالہ دیا: (جس نے اہل مدینہ کو ظلم کے ساتھ خوفزدہ کیا، اللہ اسے خوفزدہ کرے گا اور اس پر اللہ، فرشتوں اور تمام لوگوں کی لعنت ہوگی)۔
