خطبہ حرم: مقدسات پر حملہ کرنے والے اسلام سے کوئی تعلق نہیں رکھتے
امام کعبہ شیخ بندر بلیلہ نے مسلمانوں کو حسن ظن کی تلقین کرتے ہوئے حوثی ملیشیا کے حملوں کی شدید مذمت کی۔
اہم نکات
AIامام و خطیب مسجد الحرام، شیخ ڈاکٹر بندر بلیلہ نے مسلمانوں کو اللہ تعالیٰ سے ڈرنے اور ایک دوسرے کے بارے میں حسن ظن رکھنے کی تلقین کی۔ انہوں نے جمعہ کے خطبے میں، جو آج مسجد الحرام مکہ مکرمہ میں دیا گیا، بدگمانی کے نقصانات اور اس کے فرد و معاشرے پر منفی اثرات سے خبردار کیا۔
شیخ بلیلہ نے واضح کیا کہ بدگمانی انسان کو تجسس، غیبت اور زیادتی کی طرف لے جاتی ہے، اور یہ شیطان کے ان ہتھکنڈوں میں سے ہے جن سے وہ ایمان کی کمزوری کا فائدہ اٹھاتا ہے۔ اس سے دلوں میں فکر، بے چینی اور غم داخل ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حسن ظن سے دلوں کو سکون اور خوشی ملتی ہے، جسمانی صحت بہتر ہوتی ہے اور انسان کو قلبی مسرت نصیب ہوتی ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ مومن کو چاہیے کہ وہ ایسے مواقع سے بچے جو شک و شبہ کو جنم دیں، اور اگر کسی کو اس کے بارے میں بدگمانی ہو تو فوراً وضاحت کرے تاکہ سماجی تعلقات محفوظ رہیں اور دلوں میں کدورت نہ پیدا ہو۔
امام مسجد الحرام نے مزید کہا کہ حسن ظن مسلمان پر اپنے اہل خانہ، رشتہ داروں، پڑوسیوں، ساتھیوں، اپنے ملک اور قیادت کے بارے میں بھی لازم ہے، اور یہ معاشرتی اتحاد و طاقت کا اہم سبب ہے۔
اسلامی مقدسات پر حملوں کی مذمت
دوسری جانب، شیخ بلیلہ نے حوثی دہشت گرد ملیشیا کی جانب سے اسلامی مقدسات اور پرامن شہروں، خصوصاً مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ، نیز مساجد، مدارس اور املاک پر حملوں کی شدید مذمت کی۔ انہوں نے کہا کہ یہ اقدامات مجرمانہ روش کی عکاسی کرتے ہیں جو دینی اور انسانی اقدار کے سراسر منافی ہے۔
انہوں نے خطبے کے اختتام پر کہا کہ مقدسات اور دینی و تعلیمی اداروں پر حملے مسلمانوں کے خون کی حرمت کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔ جو لوگ یہ اعمال کرتے ہیں وہ دنیا کو ثابت کر رہے ہیں کہ ان کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں، اور یہ گروہ دینی نعروں کو اپنے فساد اور زمین میں بگاڑ کے لیے استعمال کرتے ہیں۔
