سعودی عرب میں قابل تجدید توانائی کے شعبے میں نمایاں پیش رفت
ماہر توانائی ڈاکٹر حسین باصی کا کہنا ہے کہ سعودی عرب نے قابل تجدید توانائی میں بڑی کامیابیاں حاصل کی ہیں اور سرمایہ کاروں کے لیے کم خطرات والی سرمایہ کاری کا ماحول فراہم کیا ہے۔
اہم نکات
AIقابل تجدید توانائی کے ماہر ڈاکٹر حسین باصی نے کہا ہے کہ سعودی عرب قابل تجدید توانائی کے شعبے میں نمایاں پیش رفت کر رہا ہے اور سرمایہ کاروں کے لیے کم خطرات والی سرمایہ کاری کا ماحول فراہم کر رہا ہے۔
انہوں نے الاخباریہ چینل سے گفتگو میں مزید کہا کہ مملکت نے اس شعبے میں متعدد ایسے عوامل فراہم کیے ہیں جن سے سرمایہ کاروں کو اطمینان حاصل ہوتا ہے۔
سعودی عرب میں قابل تجدید توانائی کے شعبے میں تبدیلی کی رفتار تیز ہو رہی ہے، جہاں 2025 کے دوران منصوبوں کی پیداواری صلاحیت میں 88 فیصد اضافہ ہوا ہے، جس کے بعد سال کے اختتام تک یہ صلاحیت 12.313 گیگاواٹ تک پہنچ جائے گی۔ اس کے ساتھ ساتھ جاری منصوبوں میں سرمایہ کاری 36 ارب سعودی ریال (9.6 ارب ڈالر) سے تجاوز کر گئی ہے، جو اس بات کی علامت ہے کہ یہ شعبہ اب صرف اقدامات کے آغاز سے نکل کر بڑے پیمانے پر آپریشن اور توسیع کے مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔
اعرض التغريدة على منصة X
