مواد پر جائیں
جمعہ، 11 ستمبر، 2026 · ریاض
العربيةEnglishنیوز لیٹررابطہ
سعودی عرب

سعودی عرب کا سلامتی کونسل سے حوثی حملوں پر سخت موقف کا مطالبہ

سعودی عرب نے حوثی ملیشیا کے حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے فوری اور مؤثر اقدام کا مطالبہ کیا ہے۔

عاجل اردو44 منٹ پہلے · 2 منٹ مطالعہ
سعودی مندوب اقوام متحدہ میں خطاب کرتے ہوئے

اہم نکات

AI

سعودی عرب نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ حوثی دہشت گرد ملیشیا کے حملوں کے خلاف واضح اور سخت موقف اختیار کرے اور بین الاقوامی امن و سلامتی کے تحفظ کی اپنی ذمہ داریاں پوری کرے۔ یہ مطالبہ نیویارک میں 11 ستمبر 2026 کو ہونے والے ہنگامی اجلاس کے دوران کیا گیا۔

یہ بات اقوام متحدہ میں سعودی عرب کے مستقل مندوب، سفیر ڈاکٹر عبدالعزیز الواصل نے اپنے خطاب میں کہی۔ انہوں نے حوثی ملیشیا کے دہشت گرد اور مجرمانہ حملوں کی شدید الفاظ میں مذمت کی، جن میں ابہا، خمیس مشیط، جازان اور نجران کے شہری اور معاشی مراکز کو نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں 73 شہری زخمی ہوئے، جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔

سفیر الواصل نے واضح کیا کہ حوثی ملیشیا کی بڑھتی ہوئی کارروائیاں نہ صرف سعودی عرب اور اس کے شہریوں کے لیے خطرہ ہیں بلکہ بحیرہ احمر اور باب المندب میں بین الاقوامی جہازرانی اور تجارت کے لیے بھی سنگین خطرہ ہیں۔

سلامتی کونسل کی قراردادوں پر عملدرآمد پر زور

سعودی سفیر نے اس بات پر زور دیا کہ سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں پر مکمل عملدرآمد اور حوثی ملیشیا کو ہر قسم کی حمایت کی فراہمی کا خاتمہ ضروری ہے، تاکہ اس کے دشمنانہ اقدامات اور خطے و عالمی بحری راستوں کو لاحق خطرات روکے جا سکیں۔

انہوں نے کہا کہ سعودی عرب کو اپنی سلامتی، خودمختاری، شہریوں، مقیم افراد اور قومی مفادات کے تحفظ کا حق حاصل ہے، جو اقوام متحدہ کے منشور اور بین الاقوامی قانون کے مطابق ہے۔

یمن بحران پر سعودی عرب کا مستقل موقف

سفیر الواصل نے یمن کے حوالے سے سعودی عرب کے مستقل موقف کا اعادہ کیا، جو اس کی وحدت، خودمختاری، آزادی اور علاقائی سالمیت کے تحفظ پر مبنی ہے۔ انہوں نے اس بات کی بھی تصدیق کی کہ سعودی عرب یمن میں جامع اور پائیدار سیاسی حل کے لیے یمنی قیادت میں کوششوں کی حمایت جاری رکھے گا، تاکہ یمنی عوام کی امن و استحکام کی خواہشات پوری ہو سکیں۔

تبصرے (0)