نظام دیوالیہ پن کا مقصد قرض دار کو تحفظ دینا نہیں: ماہر قانون
ماہر قانون عبد اللہ الدوسری نے کہا ہے کہ نظام دیوالیہ پن کا مقصد قرض دار کو قرض خواہ پر فوقیت دینا نہیں بلکہ دونوں کے درمیان توازن قائم کرنا ہے۔
اہم نکات
AIتجارتی معاملات کے ماہر وکیل عبد اللہ الدوسری نے کہا ہے کہ دیوالیہ پن کا نظام قرض دار کو قرض خواہ پر ترجیح دینے کے لیے نہیں بنایا گیا۔
انہوں نے "ریڈیو الاخباریہ" پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ دیوالیہ پن کا نظام دونوں فریقوں کے درمیان توازن قائم کرنے کے لیے ہے، جیسا کہ اس نظام کی شق نمبر پانچ میں بیان کیا گیا ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ یہ نظام قرض دار کو اپنے مالی معاملات منظم کرنے اور جب ممکن ہو کاروبار دوبارہ شروع کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے، ساتھ ہی اس بات کا بھی خیال رکھتا ہے کہ اس کے ساتھ انصاف ہو، اثاثوں کی قدر میں اضافہ ہو اور تصفیے کی صورت میں ان کی فروخت کی رقم منصفانہ طور پر تقسیم ہو۔
عبد اللہ الدوسری نے بتایا کہ حکومت نے مستقبل میں ایک سرکاری ادارہ قائم کرنے کی کوشش کی ہے جو دیوالیہ پن کے اقدامات میں اضافے کے لیے اس شعبے کے کارکنوں کی صلاحیتیں بڑھائے گا۔ اس مقصد کے لیے کابینہ کے فیصلے سے ایک کمیٹی تشکیل دی گئی ہے جو مالی اور انتظامی طور پر خود مختار ہے، وزیر تجارت کی نگرانی میں کام کرتی ہے اور دیوالیہ پن کے نظام اور اس کے ضوابط میں دیے گئے اختیارات پر عمل درآمد کرتی ہے۔
ایکس پر اصل پوسٹ دیکھیں
