امریکا: ایران سے معاہدے میں آبنائے ہرمز پر کوئی فیس نہیں ہوگی
امریکی عہدیدار کا کہنا ہے کہ ایران کے ساتھ زیر بحث معاہدے میں آبنائے ہرمز سے گزرنے پر کوئی فیس عائد نہیں کی جائے گی۔
اہم نکات
AIایک امریکی عہدیدار نے منگل کی شب کہا کہ ایران کے ساتھ زیر بحث ہم آہنگی کے معاہدے میں آبنائے ہرمز سے گزرنے پر کوئی فیس نہیں لی جائے گی، حالانکہ اس آبی راستے پر ایرانی جنگ کے باعث پابندیاں عائد ہیں۔
امریکی عہدیدار کے مطابق ایران کی جانب سے غیر معقول مطالبات پیش کیے گئے ہیں جنہیں سلطنت عمان اور امریکہ نے مسترد کر دیا ہے۔
دوسری جانب ایران نے آبنائے ہرمز کے جنوبی راستے کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا ہے۔
ایران کا کہنا ہے کہ تہران آبنائے ہرمز کے جنوبی راستے کو تسلیم نہیں کرتا اور اگر عمان نے ہمارا تجویز کردہ حل قبول نہ کیا تو آبنائے ہرمز بند رہے گی۔
ایران نے مزید کہا کہ ہم نے سلطنت عمان کو تجویز دی ہے کہ وہ آبنائے ہرمز کے ایک خارجی راستے کے کچھ حصے کا انتظام سنبھالے، جبکہ داخلی راستہ مکمل طور پر ہمارے کنٹرول میں رہے۔
مشترکہ بحری معلوماتی مرکز کے مطابق، فضائی حملوں کے رکنے کے بعد آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت میں معمولی اضافہ ہوا ہے، تاہم تجارتی نقل و حرکت اب بھی کم سطح پر ہے۔ آزادانہ ٹریکنگ ڈیٹا سے ظاہر ہوتا ہے کہ دونوں سمتوں میں تیل بردار دو جہازوں کی نقل و حرکت محدود رہی۔
