رابطة العالم الاسلامی کا برطانیہ کے اسرائیلی مصنوعات پر پابندی کے فیصلے کا خیرمقدم
رابطة العالم الاسلامی نے برطانوی حکومت کے اس فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے جس میں مقبوضہ فلسطینی علاقوں کی غیر قانونی اسرائیلی بستیوں سے مصنوعات کی درآمد پر پابندی عائد کی گئی ہے۔
اہم نکات
AIرابطة العالم الاسلامی نے برطانیہ کی حکومت کے اس فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے جس کے تحت مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں قائم غیر قانونی اسرائیلی بستیوں سے مصنوعات کی درآمد پر پابندی عائد کی گئی ہے اور ان بستیوں سے منسلک خدمات پر بھی پابندیاں لگائی گئی ہیں۔
تنظیم نے ان ممالک کے وزرائے خارجہ کے اس بیان کا بھی خیرمقدم کیا ہے جس میں دو ریاستی حل کی حمایت کی گئی ہے۔ ان ممالک میں کینیڈا، ڈنمارک، فن لینڈ، فرانس، آئس لینڈ، آئرلینڈ، ناروے، پولینڈ، پرتگال، اسپین، سویڈن اور برطانیہ شامل ہیں۔
رابطة العالم الاسلامی کے سیکریٹری جنرل اور علماء مسلمین کونسل کے سربراہ، فضیلة الشیخ ڈاکٹر محمد بن عبد الکریم العیسی نے اپنے بیان میں اس اہم اور ذمہ دارانہ موقف کو سراہا ہے جو فلسطینی عوام کے تاریخی اور قانونی حق کی حمایت میں سامنے آیا ہے۔ انہوں نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنی قانونی اور اخلاقی ذمہ داریاں پوری کرے اور اسرائیلی حکومت کی تمام خلاف ورزیوں کو فوری طور پر روکے، نیز مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں کسی بھی نئے جغرافیائی یا آبادیاتی حقائق مسلط کرنے کی کوششوں، بشمول غیر قانونی آبادکاری، کے خلاف مؤثر اور عملی اقدامات کرے۔
انہوں نے اس حوالے سے سعودی عرب، اردن، متحدہ عرب امارات، انڈونیشیا، پاکستان، ترکی، قطر اور مصر کے وزرائے خارجہ کے بیان اور فلسطینی عوام کے ساتھ ان کے مضبوط یکجہتی اور ان کے جائز حقوق، بالخصوص دو ریاستی حل اور متعلقہ بین الاقوامی قراردادوں کے مطابق اپنی ریاست کے قیام کے حق کی حمایت کو بھی سراہا۔ انہوں نے کہا کہ یہی واحد راستہ ہے جس سے خطے میں منصفانہ اور پائیدار امن قائم ہو سکتا ہے۔
