ایران مذاکرات میں امریکہ کو رعایتیں دے سکتا ہے، ماہر
ایرانی امور کے ماہر ڈاکٹر ہانی سلیمان کا کہنا ہے کہ ایران مذاکرات میں بعض معاملات بدل کر امریکی وفد کو مصروف اور وقت حاصل کرنا چاہتا ہے۔
اہم نکات
AIایرانی امور کے ماہر ڈاکٹر ہانی سلیمان نے کہا ہے کہ ایرانی فریق نے مذاکرات میں کچھ پرانے معاملات کو نئے معاملات سے بدلنے کی کوشش کی ہے تاکہ امریکی مذاکرات کار کو تفصیلات میں الجھا کر وقت حاصل کیا جا سکے۔
انہوں نے «العربیہ ایف ایم» سے گفتگو میں مزید کہا کہ ایران، اگر جوہری پروگرام پر کسی سمجھوتے تک پہنچنے کا امکان ہو تو، آبنائے ہرمز کے معاملے پر بڑی رعایت دے سکتا ہے جبکہ دیگر معاملات میں نسبتاً کم رعایتیں دے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ ایران ممکن ہے کہ جوہری پروگرام جیسے اہم معاملے میں بعض نقصانات کو کم کرنے پر توجہ دے، اور یہ بھی کہا کہ تہران کے حکام کی اندرون ملک دی جانے والی بیانات کو سنجیدگی سے نہیں لینا چاہیے۔
واضح رہے کہ ایرانی رہنماؤں کے اندرون ملک بیانات میں مزاحمت اور دفاعی صلاحیتوں کا ذکر کیا جاتا ہے، جبکہ رپورٹس کے مطابق امریکی حملوں نے ایران کی فوجی طاقت کو خاصا نقصان پہنچایا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر حملے روکنے کا فیصلہ کیا تھا، تاہم انہوں نے اس فیصلے کو معاہدے تک جلد پہنچنے سے مشروط کیا تھا۔
ایکس پر مکمل خبر دیکھیں
