مواد پر جائیں
اتوار، 2 اگست، 2026 · ریاض
العربيةEnglishنیوز لیٹررابطہ
دنیا

ایرانی میڈیا نے مجتبیٰ خامنہ ای کی آڈیو عدم اشاعت کی وجہ بتا دی

ایرانی میڈیا نے انکشاف کیا ہے کہ نئے ایرانی رہبر مجتبیٰ خامنہ ای کی کوئی آڈیو ریکارڈنگ کیوں جاری نہیں کی گئی، اس کی وجوہات سیکیورٹی سے جڑی ہیں۔

عاجل اردو1 گھنٹے پہلے · 2 منٹ مطالعہ
مجتبیٰ خامنہ ای کی آڈیو ریکارڈنگ سے متعلق ایرانی میڈیا رپورٹ

اہم نکات

AI

ایرانی میڈیا نے انکشاف کیا ہے کہ نئے ایرانی رہبر مجتبیٰ خامنہ ای کی کوئی آڈیو ریکارڈنگ کیوں جاری نہیں کی گئی۔

تہران میونسپلٹی سے منسلک ایرانی چینل "ہمشہری" نے انٹیلی جنس اداروں کی جدید صلاحیتوں پر روشنی ڈالی ہے، اور بتایا ہے کہ ایرانی رہبر کی آڈیو ریکارڈنگ جاری نہ کرنے کی وجوہات کیا ہیں۔

چینل کے مطابق ہر آڈیو فائل میں پوشیدہ ڈیٹا اور اشارے ہوتے ہیں جنہیں استعمال کر کے ریکارڈنگ کے وقت، مقام اور اردگرد کے ماحول سمیت بولنے والے کی جسمانی حالت تک کی معلومات حاصل کی جا سکتی ہیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ صوتی تجزیے کی ٹیکنالوجی کئی اہم نکات پر کام کرتی ہے، جن میں سب سے پہلے کمرے کے اندر کی صوتیات کا تجزیہ شامل ہے، جس سے آواز کے انعکاس اور گونج کی مدت کے ذریعے جگہ کے حجم، چھت کی اونچائی اور تعمیراتی مواد کی نوعیت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق بجلی کے نیٹ ورک کی فریکوئنسی (50 یا 60 ہرٹز) بھی مددگار ثابت ہو سکتی ہے، کیونکہ برقی ارتعاشات آڈیو میں ایک مخصوص نشان چھوڑتی ہیں، جسے ڈیٹا بیس سے ملا کر ریکارڈنگ کے وقت اور مقام کی درست شناخت کی جا سکتی ہے۔

العربیہ کے مطابق، رپورٹ میں ریکارڈنگ ڈیوائسز کے تکنیکی نشانات کا بھی ذکر کیا گیا ہے، جس کے مطابق ہر مائیکروفون یا فون آڈیو فائل میں ایک منفرد اثر چھوڑتا ہے، جس سے استعمال شدہ ڈیوائس کی شناخت ممکن ہے۔ اس کے علاوہ پس منظر میں موجود شور جیسے وینٹیلیشن سسٹم، ٹریفک، جہاز یا پرندوں اور کیڑوں کی آوازوں کا تجزیہ کر کے ریکارڈنگ کے مقام کا جغرافیائی دائرہ محدود کیا جا سکتا ہے۔

آخری نکتہ صوتی بایومیٹرکس سے متعلق ہے، جس میں آواز کی خصوصیات کا تجزیہ کر کے بولنے والے کے جسمانی خدوخال، آواز کے نظام کی نوعیت اور اس کی جسمانی حالت یا گفتگو کے دوران ذہنی دباؤ کی سطح تک معلوم کی جا سکتی ہے۔

یہ معاملہ ایران میں بڑھتی ہوئی سیکیورٹی اور معلومات کے تحفظ کی پالیسیوں کے تناظر میں سامنے آیا ہے، جہاں انٹیلی جنس اور سائبر سیکیورٹی کے شعبوں میں مصنوعی ذہانت اور ڈیجیٹل تجزیے پر انحصار بڑھ رہا ہے۔

تبصرے (0)