بحرین میں ایرانی حملوں کی حمایت پر دو افراد کو 10 سال قید
بحرین کی فوجداری عدالت نے ایرانی حملوں کی حمایت کے الزام میں دو افراد کو 10 سال قید اور دو ہزار دینار جرمانے کی سزا سنائی ہے۔
اہم نکات
AI
بحرین کی اعلیٰ فوجداری عدالت نے دو الگ الگ مقدمات میں ایرانی حملوں کی حمایت اور ان کی حوصلہ افزائی کے الزام میں دو افراد کو مجرم قرار دیتے ہوئے ہر ایک کو 10 سال قید اور دو ہزار دینار (بحرینی دینار) جرمانے کی سزا سنائی ہے، جبکہ ضبط شدہ اشیا بھی بحق سرکار ضبط کر لی گئی ہیں۔
انسداد دہشت گردی کے پراسیکیوٹر نے بتایا کہ یہ فیصلے آج ہونے والی عدالتی سماعت کے دوران سنائے گئے، جن کی بنیاد ان دونوں افراد کی جانب سے سوشل میڈیا پر ایرانی حملوں کی حمایت اور حوصلہ افزائی پر مبنی مواد کی اشاعت تھی۔
مقدمات کی تفصیلات کے مطابق، انسداد جرائم الیکٹرانک ڈویژن نے سوشل میڈیا پر دو ایسے اکاؤنٹس کی نشاندہی کی جن پر بحرین میں ایرانی حملوں کی حمایت میں تصاویر، ویڈیوز اور تبصرے شائع کیے گئے تھے۔
تحقیقات کے بعد ان اکاؤنٹس کے ذمہ دار افراد کی شناخت کر لی گئی، جس کے بعد پبلک پراسیکیوشن نے تفتیش کا آغاز کیا، ملزمان سے پوچھ گچھ کی، گواہوں کے بیانات ریکارڈ کیے اور ضبط شدہ الیکٹرانک آلات کی فنی جانچ کے لیے ماہرین کی خدمات حاصل کیں۔
فنی معائنے کے نتائج سے ثابت ہوا کہ ملزمان نے اپنے اوپر عائد الزامات کے مطابق جرائم کا ارتکاب کیا ہے۔ تحقیقات مکمل ہونے پر دونوں کو اعلیٰ فوجداری عدالت میں پیش کیا گیا۔
عدالت نے دونوں مقدمات کی متعدد سماعتیں کیں اور ملزمان کو دفاع کا پورا موقع فراہم کیا، اس کے بعد یہ سزائیں سنائی گئیں۔
پراسیکیوشن نے واضح کیا کہ اظہار رائے کی آزادی قانون کے دائرے میں محفوظ ہے، تاہم سوشل میڈیا کے استعمال میں قانونی حدود کی پابندی ضروری ہے اور اسے ملک کے امن و استحکام کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا۔
نیز یہ بھی کہا گیا کہ دہشت گردانہ کارروائیوں کی حمایت یا جواز پیش کرنے والا کوئی بھی مواد شائع یا شیئر کرنا قابل سزا جرم ہے۔ پراسیکیوشن نے قانون پر عمل درآمد جاری رکھنے اور خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف کارروائی کا عزم ظاہر کیا، جبکہ شہریوں اور مقیم افراد کو سوشل میڈیا کے ذمہ دارانہ استعمال کی تلقین کی۔
