ایران: امریکہ کے ساتھ جنگ میں 350 سرکاری ملازمین ہلاک
ایرانی حکومت کی ترجمان فاطمہ مہاجرانی نے کہا ہے کہ امریکی حملوں کے باعث بوشہر ایئرپورٹ بند ہے اور جنگ کے دوران 350 سرکاری اہلکار ہلاک ہوئے۔
اہم نکات
AIایرانی حکومت کی ترجمان فاطمہ مہاجرانی نے اعلان کیا ہے کہ امریکی حملوں کے باعث بوشہر ایئرپورٹ کی سرگرمیاں معطل ہو گئی ہیں، جبکہ امریکہ کے ساتھ جنگ کے دوران اپنے فرائض انجام دیتے ہوئے 350 سرکاری ملازمین ہلاک ہوئے ہیں۔
حکومتی ترجمان نے کہا کہ اگرچہ سرنگوں کو نقصان پہنچا ہے، تاہم سڑکیں جلد از جلد دوبارہ کھول دی گئی ہیں اور وزارت ٹرانسپورٹ و شہری ترقی کے وزیر کے پہنچنے سے پہلے ہی متعلقہ حکام نے راستے بحال کر دیے تھے۔ یہ بات ایرانی خبر رساں ایجنسی 'مہر' کے مطابق ہے۔
مہاجرانی نے مزید کہا کہ متاثرہ پلوں کے لیے متبادل راستے تیار کیے گئے اور استعمال میں لائے گئے ہیں، تاہم ان پلوں کے دریاؤں پر واقع ہونے اور مون سون بارشوں کے آغاز کے باعث ان کی دوبارہ تعمیر حکومت کی فوری ترجیحات میں شامل ہے۔
ایرانی حکومت کی ترجمان نے اس بات پر زور دیا کہ ہنگامی اقدامات کے تحت حکومت ملک کی اہم شاہراہوں کو دوبارہ کھولنے کو ترجیح دے رہی ہے، جس کے بعد پلوں اور دیگر متاثرہ انفراسٹرکچر کی تعمیر نو ایجنڈے میں شامل ہے۔
مہاجرانی نے مزید کہا کہ مسلح افواج کے جوانوں سے لے کر کمانڈرز تک، سب سرحدی علاقوں پر اپنے فرائض ثابت قدمی سے انجام دے رہے ہیں، حالانکہ درجہ حرارت 40 ڈگری سینٹی گریڈ سے زیادہ اور نمی 80 فیصد سے زائد ہے۔ اس کے باوجود وہ مکمل فوجی وردی، جیکٹس، ٹوپیاں اور جوتے پہنے ایران کے دفاع کے لیے ڈٹے ہوئے ہیں۔
ایکس پر اصل خبر دیکھیں
