یوکرینی وزیر خارجہ کی ایرانی ہم منصب کو روس کی حمایت سے باز رہنے کی وارننگ
یوکرین کے وزیر خارجہ آندری سیبیہا نے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے رابطہ کر کے کشیدگی سے گریز اور روس کی حمایت ختم کرنے کا مطالبہ کیا۔
اہم نکات
AIیوکرین کے وزیر خارجہ آندری سیبیہا نے منگل کو بتایا کہ انہوں نے ایرانی ہم منصب عباس عراقچی سے اس وقت رابطہ کیا جب ایران نے یوکرینی ڈرون حملے میں ایرانی جہاز کو نشانہ بنانے کی مذمت کی۔ سیبیہا نے عراقچی کو کشیدگی سے خبردار کیا اور روس کی ہر قسم کی حمایت ختم کرنے کا مطالبہ کیا۔
سیبیہا نے ایکس پر لکھا: "میں نے زور دیا کہ کسی بھی قسم کے اشتعال انگیز اقدامات سے گریز کیا جائے اور روس کی یوکرین کے خلاف جنگ میں کسی بھی طرح کی حمایت ختم کی جائے۔ یہ جنگ غیر قانونی ہے اور اسے رکنا چاہیے۔"
عراقچی نے ایکس پر تصدیق کی کہ سیبیہا نے انہیں یقین دہانی کرائی ہے کہ ایرانی جہاز پر حملہ دانستہ نہیں تھا اور کیف کشیدگی نہیں چاہتا۔
عراقچی نے کہا: "ایران بھی کشیدگی نہیں چاہتا، لیکن ہم نے واضح کر دیا ہے کہ ہمارے شہریوں یا مفادات پر کسی بھی حملے کو قبول نہیں کیا جائے گا۔ نقصانات کا ازالہ ہونا چاہیے۔"
اتوار کو عراقچی نے کہا تھا کہ بحیرہ قزوین میں ایرانی تجارتی جہاز پر یوکرینی حملہ، جس میں ایک ملاح ہلاک اور دوسرا زخمی ہوا، "بغیر جواب کے نہیں چھوڑا جا سکتا۔"
سیبیہا نے منگل کو اپنے بیان میں کہا کہ یوکرین کے اقدامات بنیادی طور پر اپنے ملک کو روسی جارحیت سے بچانے کے لیے تھے اور کبھی بھی شہری جہازوں یا عام شہریوں کو نشانہ بنانے کا ارادہ نہیں تھا۔
یوکرین میں گزشتہ چار سال سے جاری جنگ کے دوران روس نے ایرانی ساختہ یا ڈیزائن شدہ ڈرونز کے کئی حملے کیے ہیں۔
