خلیجی ممالک کا سفر فیملی کارڈ پر ممکن ہے؟ وضاحت از «الجوازات»
سعودی محکمہ پاسپورٹ نے واضح کیا ہے کہ خلیجی ممالک کے سفر کے لیے ہر فرد کے لیے الگ پاسپورٹ جاری کرنا ضروری ہے، فیملی کارڈ سفر کے لیے کافی نہیں۔
اہم نکات
AIسعودی عرب میں محکمہ پاسپورٹ کے سرکاری اکاؤنٹ پر ایک شہری نے سوال کیا: "السلام علیکم، میرے پاس چھ سال کا بچہ ہے جس کے پاس نہ شناختی کارڈ ہے نہ پاسپورٹ۔ کیا میں اسے خلیجی ممالک فیملی کارڈ (سجل الأسرة) پر لے جا سکتا ہوں یا شناختی کارڈ لازمی ہے؟"
محکمہ پاسپورٹ نے اپنے ایکس اکاؤنٹ پر وضاحت کی کہ فیملی کارڈ (سجل الأسرة) سفری دستاویز نہیں ہے، اس لیے ہر فرد کے لیے الگ پاسپورٹ جاری کرنا ضروری ہے۔
تغریدہ ایکس پر دیکھیں
فیملی کارڈ کی تجدید کے مراحل
یاد رہے کہ ابشر پلیٹ فارم نے شہریوں کے لیے فیملی کارڈ کی تجدید کی سہولت آن لائن فراہم کر دی ہے، جس کے لیے اب دفاتر جانے کی ضرورت نہیں۔
منصہ نے بتایا کہ اس سروس کے ذریعے شہری آن لائن فیملی کارڈ کی تجدید کی درخواست دے سکتے ہیں اور یہ دستاویز ان کے رجسٹرڈ پتے پر بھیجی جا سکتی ہے۔
فیملی کارڈ آن لائن جاری کرنے کے لیے ابشر پلیٹ فارم پر لاگ ان کریں، 'میری خدمات' میں جا کر 'سول افیئرز' منتخب کریں، پھر 'فیملی کارڈ سروسز' اور اس کے بعد 'فیملی کارڈ جاری کرنے کی سروس' منتخب کریں۔
سول افیئرز نے واضح کیا کہ فیملی کارڈ کی کوئی میعاد ختم نہیں ہوتی، بلکہ اس میں کسی تبدیلی کی صورت میں ہی تجدید کی جاتی ہے۔
فیملی کارڈ کے اجرا کے لیے شرائط میں شامل ہے کہ درخواست گزار شادی شدہ ہو، اس کے زیر کفالت کم از کم ایک فرد ہو، اس پر سول افیئرز کی کوئی جرمانہ واجب الادا نہ ہو، فیملی کارڈ کی ترسیل کی فیس ادا کی گئی ہو، قومی پتہ سعودی پوسٹ کی ترسیل کے دائرے میں ہو اور اس سے پہلے فیملی کارڈ کے اجرا کی کوئی درخواست نہ دی گئی ہو۔
