عراق اپنی سرزمین سے برادر ممالک پر حملے کی اجازت نہیں دے گا
سیاسی تجزیہ کار واثق الجابری نے کہا ہے کہ عراق علاقائی و عالمی تنازعات سے دور رہنے کی کوشش کر رہا ہے اور اپنی سرزمین کو کسی بھی برادر ملک پر حملے کے لیے استعمال نہیں ہونے دے گا۔
اہم نکات
AIسیاسی تجزیہ کار واثق الجابری نے کہا ہے کہ عراق تمام علاقائی اور بین الاقوامی تنازعات سے خود کو دور رکھنے کی کوشش کر رہا ہے۔
واثق الجابری نے "العربیہ ایف ایم" سے گفتگو میں کہا کہ عراق اس بات کو قطعی طور پر مسترد کرتا ہے کہ اس کی سرزمین کسی دوست یا برادر ملک پر حملے کے لیے استعمال ہو، کیونکہ اس سے بحران جنم لیتے ہیں جبکہ عراق مختلف ممالک سے تعلقات بہتر بنانے اور شراکت داری قائم کرنے کا خواہاں ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ عراقی وزیراعظم محمد شیاع السودانی نے سکیورٹی فورسز کو یہ اختیار دیا ہے کہ وہ کسی بھی خطرے کی صورت میں فوری طور پر مناسب کارروائی کریں جو ہمسایہ ممالک کے لیے خطرہ بن سکتا ہو۔
انہوں نے بتایا کہ عراقی حکومت نے صحرائی علاقوں کی نگرانی کے لیے متعدد فورسز تعینات کرنے کا فیصلہ کیا ہے، اس کے علاوہ اسلحہ صرف ریاست کے کنٹرول میں رکھنے اور اس حوالے سے ہدایات پر عمل نہ کرنے والوں کے خلاف اقدامات کرنے کے لیے بھی احکامات جاری کیے گئے ہیں۔
عراقی وزیراعظم نے ایک مشترکہ سکیورٹی کمیٹی تشکیل دینے اور ایسے اقدامات وضع کرنے کا فیصلہ کیا ہے جو عراقی سرزمین سے ہمسایہ ممالک کے خلاف کسی بھی قسم کے خطرے یا خلاف ورزی کو روک سکیں۔ انہوں نے سکیورٹی اداروں کو قانون نافذ کرنے اور ملکی خودمختاری کے تحفظ کی ذمہ داری سونپی ہے، اس کے ساتھ ساتھ مسلح افواج کی مکمل تیاری کی بھی تصدیق کی ہے تاکہ کسی بھی حملے کو ناکام بنایا جا سکے۔ عراق نے بین الاقوامی قانون کے مطابق اپنی سرزمین کو کسی بھی دوسرے ملک پر حملے کے لیے استعمال نہ ہونے دینے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔
ایکس پر مکمل خبر دیکھیں
