وزیر خارجہ کی جدہ میں او آئی سی کے ہنگامی اجلاس میں شرکت
وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے جدہ میں او آئی سی وزرائے خارجہ کے 23 ویں ہنگامی اجلاس میں شرکت کی اور فلسطینی کاز کی حمایت پر زور دیا۔
اہم نکات
AIوزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان بن عبداللہ نے آج جدہ میں اسلامی تعاون تنظیم کے رکن ممالک کے وزرائے خارجہ کی 23 ویں ہنگامی نشست میں شرکت کی، جو تنظیم کے ہیڈکوارٹر میں منعقد ہوئی۔
اپنے خطاب کے آغاز میں شہزادہ فیصل بن فرحان نے اسماعیل ولد الشیخ احمد کو تنظیم کا نیا سیکریٹری جنرل مقرر ہونے پر مبارکباد دی اور ان کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا، جبکہ سابق سیکریٹری جنرل حسین ابراہیم طہ کی خدمات پر مملکت کی جانب سے شکریہ ادا کیا۔
وزیر خارجہ نے کہا کہ موجودہ عالمی بحرانوں اور چیلنجز کے پیش نظر اسلامی تعاون اور یکجہتی پہلے سے کہیں زیادہ ضروری ہو چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ رکن ممالک کے پاس وہ صلاحیتیں موجود ہیں جو انہیں عالمی توازنات میں مؤثر کردار ادا کرنے کے قابل بناتی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ مملکت سمجھتی ہے کہ آئندہ مرحلے میں تنظیم کو سنجیدہ اصلاحات کی ضرورت ہے تاکہ اس کی فیصلہ سازی اور ادارہ جاتی کارکردگی مزید بہتر ہو سکے۔
فلسطینی کاز پر سعودی مؤقف
شہزادہ فیصل بن فرحان نے فلسطینی کاز کے حوالے سے سعودی عرب کے اصولی مؤقف اور دو ریاستی حل کے تحت آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی مکمل حمایت کا اعادہ کیا، تاکہ خطے میں منصفانہ، جامع اور پائیدار امن قائم ہو سکے۔ انہوں نے اسرائیلی قابض حکام کی جانب سے (E1) منصوبے کے تحت نئی آبادکاری کے ٹینڈر جاری کرنے کے اعلان کی شدید مذمت کی اور خبردار کیا کہ یہ منصوبہ آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کے امکانات کو خطرے میں ڈال سکتا ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے مسجد اقصیٰ پر اسرائیلی حکام اور آبادکاروں کے بار بار حملوں کی بھی مذمت کی، جو اسرائیلی فورسز کی سرپرستی میں کیے جاتے ہیں۔
اسلامی تعاون کو مضبوط بنانے پر زور
شہزادہ فیصل بن فرحان نے اپنے خطاب کے اختتام پر کہا کہ تنظیم کی اصل طاقت رکن ممالک کے اتحاد اور یکجہتی میں ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ سعودی عرب تنظیم کے کردار کو مضبوط بنانے اور اسلامی دنیا کے مسائل کے حل اور اس کے عوام کی سلامتی، استحکام اور خوشحالی کے لیے ہر کوشش کی حمایت جاری رکھے گا۔
اجلاس میں نائب وزیر خارجہ انجینئر ولید الخریجی بھی شریک تھے۔