وزیر دفاع کی تہران آمد: سعودی عرب فوجی کشیدگی کے پھیلاؤ کا مخالف
سیاسی تجزیہ کار سامی المرشد نے کہا ہے کہ وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان کا دورہ تہران سعودی عرب کے مذاکرات اور امن پسندانہ موقف کا تسلسل ہے۔
اہم نکات
AIسیاسی تجزیہ کار سامی المرشد نے وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان کے تہران دورے کو سعودی عرب کے مذاکرات اور پرامن حل کے اصولی موقف کا تسلسل قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریاض خطے میں فوجی تصادم کے پھیلاؤ کی مخالفت پر قائم ہے۔
المرشد نے الاخباریہ چینل سے گفتگو میں کہا کہ سعودی عرب کا یہ موقف "فوجی کشیدگی کے پھیلاؤ کی مخالفت اور خطے کے امن و استحکام کے تحفظ" پر مبنی ہے۔
شہزادہ خالد بن سلمان ایرانی دارالحکومت تہران میں آج پیر کو ہونے والے ان اجلاسوں میں سعودی وفد کی قیادت کر رہے ہیں، جن میں مکہ دفاعی معاہدے کے رکن ممالک اور ایرانی حکام شریک ہیں۔ ان اجلاسوں میں پاکستان کے آرمی چیف جنرل عاصم منیر اور ترک انٹیلی جنس کے سربراہ ابراہیم قالن بھی شریک ہیں۔
ایکس پر مکمل خبر دیکھیں
یہ اجلاس مکہ دفاعی معاہدے کی رکن ریاستوں کی جانب سے موجودہ بحران کے فریقین کے درمیان کشیدگی کم کرنے، مذاکرات اور سفارتی حل کی حوصلہ افزائی اور قطر و پاکستان کی ثالثی کی کوششوں کی حمایت کے لیے منعقد ہو رہے ہیں۔
ان اقدامات کا مقصد خطے کے امن و استحکام کے لیے معاہدے کی رکن ریاستوں کے کلیدی کردار کو مضبوط کرنا اور خطے کے دیگر ممالک کے ساتھ مل کر اس ہدف کے حصول کے لیے کام کرنا ہے۔
