بحری اتحاد کے نئے سربراہ کون ہیں؟
سعودی حکام نے لیفٹیننٹ جنرل عبداللہ بن سالم الشهری کو کثیر القومی بحری دفاعی اتحاد کا سربراہ مقرر کر دیا ہے، جنہیں 32 سالہ عسکری تجربہ حاصل ہے۔
اہم نکات
AIریاض میں متعلقہ حکام نے آج اعلان کیا ہے کہ لیفٹیننٹ جنرل بحری عبداللہ بن سالم الشهری کو کثیر القومی بحری دفاعی اتحاد کا سربراہ مقرر کر دیا گیا ہے۔ انہیں عسکری اور قیادی شعبے میں 32 برس سے زائد کا تجربہ حاصل ہے۔
اپنے کیریئر کے دوران جنرل الشهری نے کئی اہم قیادی اور عملی عہدوں پر خدمات انجام دیں، جن میں بحریہ کی پلاننگ، بجٹ اور تعمیرات کی سربراہی، اسپین میں بحری نگرانی و مانیٹرنگ آفس کی قیادت اور بحریہ کے لیے پانچ جنگی جہازوں کی تیاری کے السروات منصوبے کی نگرانی شامل ہے۔
انہوں نے وزارت دفاع اور ہسپانوی وزارت دفاع کے درمیان نفاذی معاہدے کی اسٹیئرنگ کمیٹی کے سیکریٹری کے طور پر بھی خدمات انجام دیں، اور متعدد مشترکہ بحری آپریشنز، مشقوں اور منصوبہ بندی میں حصہ لیا۔ انہیں قیادت، کنٹرول، آپریشنل پلاننگ اور کثیر القومی عسکری تعاون کا وسیع تجربہ حاصل ہے۔
تعلیمی قابلیت اور خصوصی کورسز
جنرل الشهری کے پاس کئی عسکری اور تعلیمی اسناد ہیں، جن میں میڈرڈ کی کمپلیٹنسی یونیورسٹی سے دفاعی و بین الاقوامی سلامتی کی پالیسی میں ماسٹرز اور امریکہ کی نیول پوسٹ گریجویٹ یونیورسٹی سے ہیومن ریسورس مینجمنٹ سسٹمز میں ماسٹرز شامل ہیں۔
انہوں نے برطانیہ میں اعلیٰ اسٹریٹجک لیڈرشپ، اسپین میں نیشنل ڈیفنس سینٹر سے کمانڈ اینڈ اسٹاف اور فرانس میں ایڈوانسڈ آپریشنز سمیت کئی اعلیٰ قیادی کورسز بھی مکمل کیے ہیں۔
اسی تناظر میں، جنرل الشهری کو ان کی عسکری خدمات کے اعتراف میں متعدد اعزازات، تمغے اور میڈلز سے نوازا گیا ہے۔
