سعودی عرب اور یونان کا دفاعی تعاون بڑھانے پر اتفاق
سعودی عرب اور یونان نے ریاض میں مشترکہ بیان جاری کرتے ہوئے دفاع، معیشت اور توانائی سمیت مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے کے عزم کا اظہار کیا۔
اہم نکات
AIسعودی عرب اور یونان نے یونانی وزیر اعظم کی ریاض آمد کے موقع پر 25 اکتوبر 2026 کو مشترکہ بیان جاری کیا، جو دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات کے سو سال مکمل ہونے پر جاری ہوا۔
ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے یونانی وزیر اعظم کریاکوس میتسوتاکس کا استقبال کیا، جہاں دونوں رہنماؤں نے سفارتی تعلقات کی صد سالہ تقریبات پر ایک دوسرے کو مبارکباد دی اور دوطرفہ تعلقات اور ان کے فروغ کے امکانات پر تبادلہ خیال کیا۔
دونوں ممالک نے قیادتوں کے درمیان ہونے والی باہمی دوروں کے مثبت نتائج کو سراہا، خصوصاً 2022 میں سعودی-یونانی اسٹریٹجک شراکت داری کونسل کے قیام اور جنوری 2025 میں اس کے پہلے اجلاس کے انعقاد کو اہم قرار دیا، اور کونسل کو شراکت داری اور ترجیحی اقدامات کے نفاذ کے لیے اہم ادارہ قرار دیا۔
اقتصادی اور تجارتی شعبے میں دونوں فریقین نے معاشی تعلقات کی مضبوطی اور 2025 میں باہمی تجارت کے 1.7 ارب امریکی ڈالر تک پہنچنے پر اطمینان کا اظہار کیا۔ سرمایہ کاری و تجارت کمیٹی کی پیش رفت اور حال ہی میں ایتھنز میں ہونے والے سعودی-یونانی بزنس کونسل کے اجلاس کا خیر مقدم کیا گیا، جبکہ بنیادی ڈھانچے، توانائی، ٹیکنالوجی اور لاجسٹکس میں سرمایہ کاری بڑھانے پر اتفاق ہوا۔
دونوں ممالک نے مشرق و مغرب کو ڈیجیٹل طور پر جوڑنے والے سمندری کیبل (EMC Cable) منصوبے میں پیش رفت کو سراہا۔ سعودی عرب نے یونانی کمپنیوں کو مملکت میں خصوصاً ایکسپو ریاض 2030 اور ورلڈ کپ 2034 سے متعلق بڑے منصوبوں میں سرمایہ کاری کی دعوت دی، جبکہ یونان نے سعودی کمپنیوں کو یورپی مارکیٹ کے گیٹ وے کے طور پر یونان میں سرمایہ کاری کی ترغیب دی۔
توانائی کے شعبے میں یونان نے عالمی منڈیوں میں تیل کے استحکام کے لیے سعودی عرب کی کوششوں کو سراہا۔ دونوں ممالک نے سمندری راستوں کے تحفظ اور توانائی کی ترسیل کے تسلسل کی اہمیت پر زور دیا اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر حملوں پر تشویش کا اظہار کیا۔ 2022 کی توانائی تعاون کی یادداشت اور سعودی-یونانی بجلی رابطہ منصوبے کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے اس شعبے میں تعاون تیز کرنے پر اتفاق کیا گیا۔
دونوں ممالک نے صاف ہائیڈروجن کی تیاری و برآمد، روایتی و قابل تجدید توانائی اور پیٹروکیمیکل میں سرمایہ کاری، نیز توانائی کی بچت اور عمارتوں، صنعت اور ٹرانسپورٹ میں کفایت شعاری کے شعبوں میں تعاون پر بھی گفتگو کی۔
دونوں فریقین نے اقوام متحدہ کے ماحولیاتی تبدیلی معاہدے اور پیرس معاہدے پر عمل درآمد اور کاربن سرکولر اکانومی پالیسیوں کی ترقی کے ذریعے ماحولیاتی تبدیلی کے اثرات کم کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔
دونوں ممالک نے ڈیجیٹل معیشت، مصنوعی ذہانت، ٹرانسپورٹ، عدلیہ، ثقافت، سیاحت، کھیل، تعلیم، میڈیا، جدید صنعتوں، ماحولیات، صحت عامہ، دواسازی اور بایوٹیکنالوجی میں تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا۔
دونوں ممالک نے دفاعی شعبے میں تعاون اور ہم آہنگی بڑھانے کے عزم کا اظہار کیا، جو باہمی مفادات اور خطے و دنیا میں امن و سلامتی کے فروغ کے لیے اہم ہے۔ اس کے علاوہ، سیکیورٹی تعاون، جرائم، انتہا پسندی اور دہشت گردی کے انسداد، ان کی مالی معاونت روکنے، تجربات اور تربیت کے تبادلے اور سائبر سیکیورٹی میں معلومات کے اشتراک پر بھی اتفاق کیا گیا۔
دورے کے اختتام پر یونانی وزیر اعظم نے ولی عہد کا پرتپاک استقبال اور مہمان نوازی پر شکریہ ادا کیا، جبکہ ولی عہد نے یونانی عوام کی مزید ترقی اور خوشحالی کی خواہش کا اظہار کیا۔
