مواد پر جائیں
اتوار، 8 نومبر، 2026 · ریاض
العربيةEnglishنیوز لیٹررابطہ
سعودی عرب

سعودی عرب کا ڈیجیٹل مستقبل کیلئے عالمی شراکتوں کا تسلسل

وزیر مواصلات عبداللہ السواحه نے کہا ہے کہ سعودی عرب عالمی شراکتوں کے ذریعے سب کیلئے ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت کے مواقع بڑھا رہا ہے۔

عاجل اردو14 منٹ پہلے · 3 منٹ مطالعہ
وزیر مواصلات عبداللہ السواحه کانفرنس میں خطاب کرتے ہوئے

اہم نکات

AI

وزیر مواصلات و انفارمیشن ٹیکنالوجی انجینئر عبداللہ بن عامر السواحه نے کہا ہے کہ سعودی عرب اپنی قیادت کی سرپرستی میں بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ مل کر رابطے کو مضبوط بنانے اور سب کیلئے ٹیکنالوجی و مصنوعی ذہانت کے مواقع فراہم کرنے کیلئے کوشاں ہے۔

یہ بات عبداللہ السواحه نے دوحہ میں منعقدہ انٹرنیشنل ٹیلی کمیونیکیشن یونین کے کانفرنس میں سعودی وفد کی شرکت کے دوران وزارتی گول میز اجلاس میں کہی۔ انہوں نے دوحہ اعلامیے کی مکمل حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ عالمی شراکت کو صرف رابطے تک محدود نہ رکھا جائے بلکہ کمپیوٹنگ کی صلاحیتوں تک رسائی کو بھی بڑھایا جائے تاکہ مصنوعی ذہانت کے دور میں زیادہ سے زیادہ ممالک شریک ہو سکیں۔

انہوں نے گزشتہ چار برسوں میں دنیا بھر میں انٹرنیٹ تک رسائی میں ہونے والی پیشرفت کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ انٹرنیٹ سے محروم افراد کی تعداد 2.6 ارب سے کم ہو کر 2 ارب رہ گئی ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ مصنوعی ذہانت تک رسائی اور اس کے مواقع سے فائدہ اٹھانے کیلئے عالمی سطح پر مشترکہ کوششیں ناگزیر ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ جدید مصنوعی ذہانت کے ماڈلز کی ترقی اور آپریٹنگ کیلئے درکار تقریباً 90 فیصد کمپیوٹنگ کی صلاحیتیں صرف دو ممالک تک محدود ہیں، جس سے اس شعبے میں عالمی شراکت کی ضرورت اور بھی بڑھ جاتی ہے تاکہ زیادہ ممالک اس معیشت میں شریک ہو سکیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اس حوالے سے ڈیجیٹل خلیج مزید وسیع ہو سکتی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ سعودی عرب نے اپنے شراکت داروں اور انٹرنیشنل ٹیلی کمیونیکیشن یونین کے ساتھ مل کر "شراکت برائے کنیکٹیویٹی" اقدام کے تحت 100 ارب ڈالر جمع کیے ہیں، جس سے ڈیجیٹل خلیج کم کرنے میں مدد ملی ہے۔ انہوں نے اس کوشش کو مزید آگے بڑھانے اور "شراکت برائے کمپیوٹنگ" کے ذریعے مصنوعی ذہانت کی ترقی کیلئے درکار صلاحیتوں کو وسعت دینے کی ضرورت پر زور دیا۔

عبداللہ السواحه نے کہا کہ سعودی عرب عالمی توانائی شراکت دار کے طور پر اپنی حیثیت کو بروئے کار لا رہا ہے اور زمین، کمپیوٹنگ صلاحیت اور توانائی مختص کر رہا ہے تاکہ سب کیلئے مواقع فراہم کیے جا سکیں۔

خواتین کو بااختیار بنانے کے حوالے سے انہوں نے انٹرنیشنل ٹیلی کمیونیکیشن یونین کے ساتھ سعودی عرب کی شراکت اور "ایکوئلز" پروگرام میں پیش رفت کو اجاگر کیا۔ انہوں نے بتایا کہ اسٹینفورڈ یونیورسٹی کے 2026 کے مصنوعی ذہانت انڈیکس رپورٹ کے مطابق سعودی عرب نے اس شعبے میں نمایاں خواتین محققین اور موجدین کی سب سے زیادہ شرح درج کی ہے۔

آخر میں عبداللہ السواحه نے عالمی برادری کے ساتھ شراکت داری جاری رکھنے اور ڈیجیٹل و اسمارٹ دنیا میں سب کیلئے بہتر مستقبل کی تعمیر کے عزم کا اعادہ کیا۔

تبصرے (0)