مواد پر جائیں
بدھ، 4 نومبر، 2026 · ریاض
العربيةEnglishنیوز لیٹررابطہ
سعودی عرب

سعودی عرب کا شام میں 403 ملین ڈالر سے زائد ترقیاتی منصوبوں کا اعلان

خادم الحرمین الشریفین اور ولی عہد کی ہدایت پر سعودی ترقیاتی فنڈ نے شام میں توانائی، صحت، پانی اور دیگر شعبوں کے لیے 403 ملین ڈالر سے زائد کے منصوبے منظور کیے ہیں۔

عاجل اردو1 گھنٹے پہلے · 2 منٹ مطالعہ
سعودی اور شامی حکام معاہدے پر دستخط کرتے ہوئے

اہم نکات

AI

خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز اور ولی عہد و وزیراعظم شہزادہ محمد بن سلمان کی ہدایت پر، اور ان کی موجودگی میں، سعودی ترقیاتی فنڈ اور شام کی وزارت خزانہ کے درمیان چھ رعایتی قرضوں کے معاہدے طے پائے ہیں جن کی مجموعی مالیت 403 ملین ڈالر سے زائد ہے۔ یہ فنڈز شام میں توانائی، پانی، صحت، رہائش، انفراسٹرکچر اور ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن کے شعبوں کی ترقی کے لیے فراہم کیے جائیں گے۔

معاہدوں پر سعودی ترقیاتی فنڈ کے چیف ایگزیکٹو سلطان بن عبدالرحمن المرشد اور شام کے وزیر خزانہ محمد یسر برنیہ نے دستخط کیے۔

ان منصوبوں میں حلب پاور اسٹیشن کی پیداواری یونٹس کی بحالی کے لیے 90 ملین ڈالر مختص کیے گئے ہیں، جس سے تقریباً 50 لاکھ افراد مستفید ہوں گے۔ اس سے بجلی کی فراہمی میں بہتری، معاشی و صنعتی سرگرمیوں کو فروغ اور قومی بجلی کے نظام کا استحکام ممکن ہوگا۔ اس کے علاوہ 30 ملین ڈالر کی لاگت سے 3 لاکھ اسمارٹ واٹر میٹرز کی فراہمی و تنصیب کے ذریعے ڈیڑھ ملین افراد کو پینے کے پانی کی بہتر سہولت میسر آئے گی۔ اسی طرح 105 ملین ڈالر سے مختلف صوبوں میں 25 سول ڈیفنس مراکز کی تعمیر و بحالی ہوگی، جس سے 70 لاکھ سے زائد افراد کو ہنگامی حالات اور آفات کے دوران مدد ملے گی۔

معاہدوں میں متاثرہ علاقوں میں 10 ہزار رہائشی یونٹس کی بحالی کے لیے 60 ملین ڈالر، جبکہ مختلف علاقوں میں اسپتالوں اور صحت مراکز کی تعمیر و بحالی کے لیے 100 ملین ڈالر مختص کیے گئے ہیں۔ اس سے صحت کے شعبے میں بنیادی اور خصوصی خدمات کی بحالی اور توسیع ممکن ہوگی اور موجودہ اسپتالوں پر دباؤ کم ہوگا۔ اس کے علاوہ وزارت خزانہ کے ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن اور ادارہ جاتی ترقی کے لیے 18 ملین ڈالر سے زائد کی رقم مختص کی گئی ہے، جس کا مقصد حکومتی مالیاتی خدمات میں شفافیت اور کارکردگی کو بہتر بنانا ہے۔

یہ منصوبے سعودی عرب کی جانب سے شام کی ترقی اور بنیادی سہولیات کی فراہمی کے لیے جاری کوششوں کا حصہ ہیں، جن کا مقصد شام کے عوام کے معیارِ زندگی اور انفراسٹرکچر کو بہتر بنانا ہے تاکہ وہ پائیدار اور معیاری خدمات تک رسائی حاصل کر سکیں۔

واضح رہے کہ سعودی عرب نے ستمبر 2025 میں بھی سعودی ترقیاتی فنڈ کے ذریعے شام کو خام تیل کی فراہمی اور تین ماہ کے لیے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں کی ادائیگی کے لیے دو گرانٹس فراہم کی تھیں۔

تبصرے (0)