مواد پر جائیں
بدھ، 30 ستمبر، 2026 · ریاض
العربيةEnglishنیوز لیٹررابطہ
سعودی عرب

سعودی عرب کا عالمی فورم برائے پانی 2027 کی میزبانی کیلئے تیاریوں میں اضافہ

سعودی عرب نے ریاض میں عالمی فورم برائے پانی 2027 کی میزبانی کو بین الاقوامی تعاون اور پائیدار آبی تحفظ کے فروغ کیلئے اہم قرار دیا ہے۔

عاجل اردو1 گھنٹے پہلے · 3 منٹ مطالعہ
ریاض میں عالمی فورم برائے پانی 2027 کی تیاری

اہم نکات

AI

سعودی عرب نے کہا ہے کہ ریاض میں 2027 میں گیارہویں عالمی فورم برائے پانی کی میزبانی عالمی سطح پر مشترکہ آبی اقدامات کو مضبوط بنانے اور وعدوں و اقدامات کو عملی حل میں بدلنے کی اہم کوشش ہے، جو آبی تحفظ اور اس کی پائیداری کے حصول میں مددگار ثابت ہوگی۔

یہ بات وزارت ماحولیات، پانی و زراعت کے پانی کے امور کے نائب وزیر ڈاکٹر عبدالعزیز الشیبانی نے اٹلی کے دارالحکومت روم میں منعقدہ یورو-میڈیٹرینین فورم برائے پانی کے ایک پینل مباحثے میں کہی، جس میں پانی کے شعبے سے وابستہ وزرا، اعلیٰ حکام اور بین الاقوامی ماہرین شریک تھے۔

ڈاکٹر الشیبانی نے بتایا کہ سعودی عرب 21 سے 25 مارچ 2027 تک "بہتر کل کے لیے عمل" کے عنوان سے فورم کی میزبانی کی تیاری کر رہا ہے، جس کا مقصد بین الاقوامی شراکت داری کو فروغ دینا، قابل عمل حل کی حمایت کرنا اور عالمی وعدوں کو واضح اور قابل پیمائش پروگراموں سے جوڑنا ہے، جن کے اثرات اور نتائج کی نگرانی کی جا سکے۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اقوام متحدہ کے پانی سے متعلق کانفرنس 2026 کے نتائج کو بنیاد بنا کر فورم کی تیاریوں کو آگے بڑھایا جائے، تاکہ عالمی سطح پر آبی شعبے میں تعاون کا تسلسل برقرار رہے اور حکومتوں، بین الاقوامی اداروں، نجی شعبے اور سائنسی و سماجی حلقوں کے درمیان ہم آہنگی کو فروغ ملے۔

سعودی عرب میں آبی شعبے کی تبدیلیاں

نائب وزیر نے بتایا کہ سعودی عرب میں وژن 2030 اور قومی آبی حکمت عملی کے تحت پانی کے شعبے میں نمایاں تبدیلیاں آئی ہیں، جن میں پانی کی فراہمی، سمندری پانی کو میٹھا بنانے، نقل و ذخیرہ، استعمال شدہ پانی کی دوبارہ فراہمی، گورننس کی بہتری اور نجی شعبے کی شمولیت شامل ہیں۔

فورم کے موضوعات اور عالمی شراکت

ڈاکٹر الشیبانی نے کہا کہ ریاض فورم میں چھ اہم موضوعات اور 30 سے زائد ذیلی موضوعات پر بحث ہوگی، جن میں آبی تحفظ، پانی کی مالیات، انسان اور فطرت کے لیے پانی، آبی حکمرانی و سفارت کاری، جدت اور پانی کی قدر شامل ہیں۔ اس میں 150 سے زائد ممالک کے 20,000 سے زیادہ شرکا کی شرکت متوقع ہے۔

انہوں نے کہا کہ سعودی عرب فورم کی تیاریوں میں تمام فریقین کی شمولیت کو یقینی بنانا چاہتا ہے، تاکہ مختلف علاقوں اور ممالک کی ضروریات کو مدنظر رکھا جا سکے اور نوجوانوں، تعلیمی اداروں، نجی شعبے، بین الاقوامی تنظیموں اور آبی بیسن کی تنظیموں کی شرکت کو فروغ دیا جائے۔

اپنی گفتگو کے اختتام پر ڈاکٹر الشیبانی نے عالمی برادری سے اپیل کی کہ وہ فورم کی تیاریوں میں بھرپور کردار ادا کرے اور ایسی تجاویز، تجربات اور شراکتیں پیش کرے جو عملی اور پائیدار نتائج کے حصول میں مددگار ہوں۔ انہوں نے کہا کہ سعودی عرب کو امید ہے کہ یہ فورم مشترکہ عالمی عمل کے لیے ایک مؤثر پلیٹ فارم ثابت ہوگا، جو پانی کے زیادہ محفوظ اور پائیدار مستقبل کی راہ ہموار کرے گا۔

واضح رہے کہ سعودی عرب کی یورو-میڈیٹرینین فورم برائے پانی میں شرکت، آبی تعاون اور بین الاقوامی آبی سفارت کاری کے فروغ اور ریاض میں گیارہویں عالمی فورم برائے پانی کی میزبانی کے تعارف کی کوششوں کا حصہ ہے، جو وزارت ماحولیات، پانی و زراعت اور عالمی آبی کونسل کے اشتراک سے منعقد ہوگا۔

تبصرے (0)