یورپی یونین کی حوثی حملوں کی مذمت، امن کی بحالی پر زور
یورپی یونین نے ایک بار پھر سعودی عرب پر حوثی حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے مکمل یکجہتی اور امن کوششوں کی بحالی پر زور دیا ہے۔
اہم نکات
AIیورپی یونین نے پیر کے روز ایک بار پھر سعودی عرب پر حوثی گروپ کے حملوں کی شدید مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ وہ اس حوالے سے سعودی عرب اور یمن کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتا ہے۔
یورپی کمیشن کی رکن اور بحیرہ روم و خلیجی امور کی ذمہ دار دوبرافکا سوئسکا نے کہا کہ یورپی یونین یمن میں امن کوششوں کی بحالی کی اپیل دہراتا ہے اور اقوام متحدہ کی ثالثی و علاقائی اقدامات کی مکمل حمایت کرتا ہے جن کا مقصد جنگ بندی تک پہنچنا ہے۔
سوئسکا نے اس بات پر بھی زور دیا کہ یورپی یونین بحری نقل و حمل کی آزادی اور اس کے تحفظ پر قائم ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب خطے پر حملے جاری ہیں اور تجارتی جہاز رانی کو خطرات لاحق ہیں۔
گزشتہ ہفتے بھی یورپی یونین نے سعودی عرب پر حالیہ حوثی حملوں کی شدید مذمت کی تھی اور کہا تھا کہ شہریوں، تنصیبات اور شہری انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانا ناقابل قبول ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کا تصادم خطے کے امن و استحکام کو نقصان پہنچاتا ہے اور یمن میں سیاسی حل کے ذریعے تنازع کے خاتمے کی کوششوں میں رکاوٹ بنتا ہے۔
یورپی یونین نے حوثیوں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ یمن اور اس کے باہر تمام حملے فوری طور پر بند کریں، جن میں بحیرہ احمر میں تجارتی جہاز رانی کو نشانہ بنانے والے حملے بھی شامل ہیں، اور متعلقہ سلامتی کونسل کی قراردادوں کی پاسداری کریں۔
یورپی موقف ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب عالمی سطح پر حوثی حملوں کی مذمت جاری ہے، جن میں جنوبی سعودی عرب میں شہریوں اور شہری و معاشی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا ہے، جبکہ خطے کے امن اور استحکام پر اس تصادم کے اثرات کے حوالے سے بھی خبردار کیا گیا ہے۔
