اتفاق مکہ علاقائی منظرنامے پر اثرانداز ہوگا: ماہر سیاسیات
سیاسی تجزیہ کار عبد الرحمن الملحم نے کہا ہے کہ اتفاق مکہ میں شامل ممالک خطے میں اسٹریٹجک اہمیت رکھتے ہیں اور یہ معاہدہ سعودی قیادت میں علاقائی منظرنامے پر اثر ڈالے گا۔
اہم نکات
AIسیاسی تجزیہ کار عبد الرحمن الملحم کا کہنا ہے کہ اتفاق مکہ میں خطے کی اسٹریٹجک اہمیت رکھنے والے ممالک شامل ہیں اور یہ معاہدہ سعودی عرب کی قیادت میں علاقائی منظرنامے پر اثرانداز ہوگا۔
انہوں نے الاخباریہ چینل سے گفتگو میں مزید کہا کہ یہ معاہدہ ایک بڑی تاریخی پیش رفت ہے جس نے دنیا کی توجہ اس کی اہمیت کی جانب مبذول کرائی ہے۔ سعودی عرب عرب اور اسلامی دنیا کی قیادت کر رہا ہے، اسی لیے دونوں دنیاؤں کا مرکز اور اصل وزن ریاض میں ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس معاہدے میں تین عرب و اسلامی ممالک (سعودی عرب، ترکی، پاکستان) شامل ہیں، جو عالمی سطح پر اسٹریٹجک وزن رکھتے ہیں۔ سعودی عرب دنیا کی بڑی معاشی طاقت ہے، سیاسی طور پر بھی اہم ہے اور اس کے پاس بہت بڑا فضائی عسکری بیڑا موجود ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان ایک بڑی ایٹمی اور عسکری طاقت ہے جس کے پاس منظم اسٹریٹجک فورسز ہیں، جبکہ ترکی نیٹو کا رکن ہے اور اس کے پاس بھی بڑی عسکری صلاحیتیں ہیں۔ اس لیے یہ اتحاد خطے کے ممالک پر گہرے اثرات مرتب کرے گا اور سعودی عرب کی قیادت میں مشترکہ دفاعی حکمت عملی کی جانب پیش رفت ہوگی۔
اعرض التغريدة على منصة X
