سعودی عرب میں 2026 کو ’سالِ مصنوعی ذہانت‘ قرار دے دیا گیا
ولی عہد محمد بن سلمان نے اعلان کیا ہے کہ 2026 کو سعودی عرب میں ’سالِ مصنوعی ذہانت‘ کے طور پر منایا جائے گا تاکہ مملکت اس شعبے میں عالمی رہنما بن سکے۔
اہم نکات
AIسعودی ولی عہد اور وزیراعظم شہزادہ محمد بن سلمان بن عبدالعزیز نے کہا ہے کہ ہم نے 2026 کو ’سالِ مصنوعی ذہانت‘ قرار دیا ہے، تاکہ مملکت دنیا بھر میں اس شعبے کی ایپلی کیشنز اور حل تیار کرنے، ان میں سرمایہ کاری کرنے، پیداواری صلاحیت بڑھانے، خدمات کے معیار کو بہتر بنانے اور سعودی افرادی قوت کی تربیت میں عالمی رہنما بن سکے۔
انہوں نے یہ بات سالانہ شاہی خطاب اور مجلس شوریٰ کے نویں سیشن کے تیسرے سال کے آغاز پر خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز کی جانب سے کہی۔ ان کا کہنا تھا کہ خطے میں حالیہ واقعات اس بات کا ثبوت ہیں کہ طویل مدتی منصوبہ بندی کا مطلب جمود نہیں بلکہ بدلتے حالات کے ساتھ ہم آہنگی کی صلاحیت ہے۔
شہزادہ محمد بن سلمان نے مزید کہا کہ دنیا میں تیزی سے آنے والی تبدیلیوں کے تناظر میں ان اصلاحات کی اہمیت واضح ہوتی ہے جنہوں نے معیشت کو متنوع بنایا، مملکت کی بحرانوں سے نمٹنے کی صلاحیت میں اضافہ کیا اور خطرات کو مواقع میں بدل کر سعودی عرب کی عالمی حیثیت کو مضبوط کیا، جبکہ ترقیاتی ترجیحات کو مؤثر اور پائیدار انداز میں آگے بڑھایا۔
