مکہ مکرمہ کو نشانہ بنانے کی کوشش سنگین جرم ہے، الازہر
الازہر نے مکہ مکرمہ کو نشانہ بنانے کی کوشش کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے مسلمانوں کے جذبات کو بھڑکانے اور مقدسات کی حرمت پر حملہ قرار دیا ہے۔
اہم نکات
AIالازہر نے مکہ مکرمہ کو نشانہ بنانے کی کوشش کی مذمت کی ہے اور تنازعے کے دائرہ کار کو بڑھانے سے خبردار کیا ہے۔
اپنے ایک بیان میں الازہر نے کہا کہ مقدس شہر کو خطرے میں ڈالنا ایک سنگین جرم اور اس حرمت پر حملہ ہے جسے اللہ تعالیٰ نے عظمت بخشی ہے۔ یہ پوری دنیا کے مسلمانوں کے جذبات کو بھڑکانے کے مترادف ہے۔ الازہر نے خبردار کیا کہ تنازعے کو بڑھا کر اسلامی مقدسات کو نشانہ بنانے کے نتائج انتہائی خطرناک ہوں گے۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ مکہ مکرمہ کو کسی بھی صورت میں تنازعے یا خطرے کا مرکز بنانا ناقابل تصور ہے، اور اس شہر کی حرمت اسلامی عقیدے کا بنیادی حصہ ہے جسے کسی صورت نقصان نہیں پہنچایا جا سکتا۔
الازہر شریف نے اس بات پر زور دیا کہ حرمین شریفین کا تحفظ محض سیاسی یا علاقائی معاملہ نہیں، بلکہ پوری امت مسلمہ کے عقیدے سے جڑا ہوا ہے۔ مقدس شہر کو نشانہ بنانا یا اس کی سلامتی کو خطرے میں ڈالنا دو ارب مسلمانوں کے جذبات کو مجروح کرنے اور ان مقدسات کی حرمت پر حملہ ہے جن کی طرف مسلمان اپنی نمازوں میں رخ کرتے ہیں، اور جہاں دنیا بھر سے لوگ حج اور زیارت کے لیے آتے ہیں۔ الازہر نے کہا کہ مقدس شہر کی حرمت اور اس کے زائرین کے تحفظ کی ذمہ داری مسلمانوں اور غیر مسلموں سب پر عائد ہوتی ہے، اور اس معاملے کو سیاسی یا تنازعات کے تناظر میں نہیں دیکھا جانا چاہیے۔
