سعودی امریکہ جوہری معاہدہ اسرائیل سے تعلقات سے مشروط نہیں
امریکی ویب سائٹ اکسیوس کے مطابق سعودی عرب اور امریکہ کے درمیان جوہری معاہدے کا اسرائیل سے تعلقات کی بحالی سے کوئی باضابطہ تعلق نہیں۔
اہم نکات
AIامریکی ویب سائٹ اکسیوس نے تصدیق کی ہے کہ سعودی عرب اور امریکہ کے درمیان طے پانے والے شہری جوہری معاہدے کی شقوں میں ایسا کوئی اشارہ نہیں کہ اس پر عمل درآمد کو سعودی عرب اور اسرائیل کے درمیان تعلقات کی بحالی سے مشروط کیا گیا ہو۔
ویب سائٹ کے مطابق یہ معاہدہ سعودی عرب اور اسرائیل کے درمیان کسی امن معاہدے سے الگ طور پر طے پایا ہے اور دستیاب معلومات کے مطابق اس میں شہری جوہری تعاون کو تعلقات کی بحالی سے جوڑنے کی کوئی شق شامل نہیں، اگرچہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس حوالے سے کہا تھا کہ معاہدہ ابراہام معاہدوں میں سعودی شمولیت سے مشروط ہوگا۔
یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی ہے جب رواں ہفتے سعودی عرب اور امریکہ نے جوہری توانائی کے پرامن استعمال کے لیے تعاون اور جوہری ضمانتوں سے متعلق دو طرفہ معاہدے پر دستخط کیے ہیں، جس سے دونوں ملکوں کے درمیان شہری جوہری تعاون کے لیے قانونی فریم ورک قائم ہوگا۔
ریاض کا معاہدے کو تعلقات سے مشروط کرنے پر مؤقف
اسی حوالے سے الشرق بلومبرگ نے ایک باخبر ذریعے کے حوالے سے بتایا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے جوہری معاہدے کو اسرائیل سے تعلقات کی بحالی سے مشروط کرنے کا اعلان سعودی عرب سے پہلے سے طے شدہ نہیں تھا۔
ذرائع کے مطابق، جنہوں نے شناخت ظاہر نہ کرنے کی درخواست کی، ریاض کو اس بات کا پہلے سے علم نہیں تھا کہ ٹرمپ جوہری معاملے کو اسرائیل سے تعلقات کے ساتھ جوڑنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔
