سرمایہ کاروں کو اراضی کی ترقی اور رہائشی یونٹس کی اجازت
ولی عہد محمد بن سلمان کی زیر صدارت کابینہ اجلاس میں علاقائی صورتحال، عالمی تعاون اور متعدد معاہدوں و فیصلوں کی منظوری دی گئی۔
اہم نکات
AIسعودی ولی عہد اور وزیراعظم شہزادہ محمد بن سلمان نے منگل کو جدہ میں کابینہ کا ہفتہ وار اجلاس منعقد کیا، جس کا آغاز انہوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ٹیلیفونک گفتگو کی تفصیلات سے کیا۔ اس گفتگو میں خطے کی تازہ صورتحال اور اس کے اثرات پر تبادلہ خیال ہوا، جبکہ سعودی عرب نے کشیدگی کم کرنے اور علاقائی سلامتی کے لیے مذاکرات اور سفارتی حل کی ضرورت پر زور دیا۔
شہزادہ محمد بن سلمان نے اجلاس کو بحرین کے بادشاہ حمد بن عیسیٰ آل خلیفہ، شام کے صدر احمد الشرع، ترکی کے صدر رجب طیب اردوان اور ہسپانوی وزیراعظم پیدرو سانچیز سے ہونے والی دیگر ٹیلیفونک بات چیت سے بھی آگاہ کیا، جن میں دو طرفہ تعاون اور باہمی دلچسپی کے امور پر گفتگو ہوئی۔
یہ تفصیلات وزیر تعلیم و قائم مقام وزیر اطلاعات یوسف بن عبداللہ البنیان نے اجلاس کے بعد سعودی خبر رساں ایجنسی کے ذریعے جاری کیں۔

بحر احمر میں بحری اتحاد اور بڑھتا عالمی تعاون
کابینہ نے سعودی عرب کی قیادت میں قائم کثیر القومی بحری دفاعی اتحاد میں عالمی حمایت اور شمولیت کو سراہا، جس کا مقصد بحر احمر، باب المندب اور خلیج عدن میں بڑھتے خطرات کے پیش نظر بحری راستوں، تجارتی راہداریوں اور توانائی کی فراہمی کے تحفظ کے لیے مشترکہ تعاون کو فروغ دینا ہے۔
غزہ: جامع سیاسی عمل کی امید
کابینہ نے غزہ میں اسلحہ کے خاتمے سے متعلق تاریخی معاہدے کو جامع سیاسی عمل کی بنیاد قرار دیا، جس سے مکمل امن منصوبے پر عمل درآمد اور فلسطینی عوام کو اپنے مستقبل کے تعین اور آزاد ریاست کے قیام کا حق مل سکے گا۔ کابینہ نے اس کامیابی میں مصر، قطر، ترکی، امریکہ اور امن کونسل کی کوششوں کو سراہا۔
کابینہ نے اپریل میں ریاض میں منعقد ہونے والے پانچویں بین الاقوامی انسانی فورم کے ذریعے سعودی عرب کی انسانی خدمات کے دائرہ کار کو وسعت دینے کے عزم کا اعادہ بھی کیا۔

آئی ایم ایف: سعودی معیشت کی مضبوطی اور اہداف کی قبل از وقت تکمیل
کابینہ نے آئی ایم ایف کی 2026 کی رپورٹ کا خیرمقدم کیا، جس میں سعودی معیشت کی مضبوطی، لچک اور وژن 2030 کے تحت کی گئی اصلاحات کے مثبت اثرات کو سراہا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق سعودی عرب نے کئی اہم اہداف مقررہ وقت سے پہلے حاصل کر لیے ہیں۔
اہم فیصلے
کابینہ نے متعدد معاہدوں اور ضوابط کی منظوری دی، جن میں نمایاں ہیں:
حکومت ایکواڈور کے ساتھ عمومی تعاون کا معاہدہ اور قازقستان کے ساتھ باہمی سرمایہ کاری کے فروغ و تحفظ کا معاہدہ۔
ہسپانیہ کے ساتھ شہری ہوابازی اور سعودی و ترک خلائی ایجنسیوں کے درمیان خلائی تعاون کے لیے دو مفاہمتی یادداشتیں۔
وفاقی صومالیہ کے ساتھ بحری نقل و حمل میں تعاون کا معاہدہ۔
وزیر تعلیم کو کورین کالج 'کے ڈی آئی' کے ساتھ تکنیکی و پیشہ ورانہ تربیت کے معاہدے پر مذاکرات اور دستخط کا اختیار دینا۔
سرکاری خریداری اور مقابلے کے نئے نظام کی منظوری۔
بین الاقوامی مرکز برائے مصنوعی ذہانت تحقیق و اخلاقیات کے بنیادی نظام کی منظوری۔
سرمایہ کاروں کو منصوبہ بند اراضی کی ترقی اور سماجی رہائش کے مستحقین کے لیے رہائشی یونٹس کی تعمیر کے بدلے اراضی میں حصہ داری دینے کی منظوری۔
وزارت داخلہ (جنرل ڈائریکٹوریٹ آف میڈیکل سروسز) کی بین الاقوامی ہسپتال فیڈریشن میں شمولیت۔
لائسنس یافتہ مالیاتی اداروں کے علاقائی دفاتر کو مالیاتی شعبے کی ترقیاتی کمیٹی سے منظور شدہ سرحد پار مالی سرگرمیوں کی اجازت۔
غیر دستاویزی جائیدادوں کی اصلاح کے لیے مہلت میں ایک سال کی توسیع۔
جامعات حائل، طیبہ، قصیم اور الجوف کے گزشتہ مالی سالوں کے حتمی حسابات کی منظوری۔

کابینہ نے چودہویں گریڈ پر متعدد افسران کی ترقی کی بھی منظوری دی، جن میں بسام بن عبدالرحمن العمار (وزارت داخلہ میں قانونی مشیر)، ڈاکٹر خالد بن سعید ابو ہتلہ (وزارت اطلاعات میں بزنس کنسلٹنٹ) اور خالد بن صالح آل شیخ (کابینہ سیکرٹریٹ میں قانونی مشیر) شامل ہیں۔
