سعودی عرب کی جانب سے یمن کے بجٹ کیلئے 224 ملین ریال کی نئی امداد
سعودی قیادت کی ہدایت پر مملکت نے یمن کے بجٹ کی معاونت کیلئے 224 ملین سعودی ریال کی نئی قسط جاری کی ہے۔
اہم نکات
AI
سعودی قیادت کی ہدایت پر مملکت نے سعودی پروگرام برائے ترقی و تعمیر نو یمن کے ذریعے یمن کے بجٹ کی معاونت کے لیے 224 ملین سعودی ریال سے زائد کی نئی قسط جاری کی ہے، جو آپریٹنگ اخراجات اور تنخواہوں کی ادائیگی کے لیے مختص ہے۔ اس اقدام کا مقصد برادر یمنی عوام کے استحکام اور ترقی کو یقینی بنانا ہے۔
اس امداد کا مقصد حکومتی مالیاتی بہاؤ اور تنخواہوں کی ادائیگی کو باقاعدہ بنانا، مالیاتی پالیسی کی کارکردگی کو بہتر بنانا اور اقتصادی و سماجی ترقی کو پائیدار راستے پر گامزن کرنا ہے۔ اس اقتصادی تعاون سے خریداری کی قوت میں اضافہ، گھریلو آمدنی میں بہتری اور تجارتی منڈیوں کی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا۔
سعودی عرب یمن کا سب سے بڑا تاریخی انسانی، ترقیاتی اور اقتصادی معاون ہے۔ سن 2012 سے 2026 کے دوران مملکت کی جانب سے 12.6 ارب ڈالر سے زائد کی ترقیاتی اور اقتصادی امداد فراہم کی گئی، جس میں یمنی مرکزی بینک کے لیے ڈپازٹس اور گرانٹس بھی شامل ہیں۔ اس امداد نے یمنی اداروں کی خدمات کی فراہمی اور معاشی و سماجی دباؤ میں کمی کے لیے بنیادی کردار ادا کیا ہے، جس سے مالی توازن اور یمنی معیشت کے استحکام میں مدد ملی۔
سعودی پروگرام برائے ترقی و تعمیر نو یمن کے ذریعے ترقیاتی اقدامات نے پائیدار ترقی کی بنیادیں مضبوط کی ہیں، انسانی اور معاشی اثرات کو کم کیا ہے اور موجودہ و آئندہ نسلوں کے لیے ہمہ گیر ترقی کو یقینی بنایا ہے۔
اس پروگرام کے تحت آٹھ اہم شعبوں میں 300 ترقیاتی منصوبے اور اقدامات شروع کیے گئے، جنہوں نے بنیادی ڈھانچے اور خدمات کی بہتری، یمنی افرادی قوت کی صلاحیتوں میں اضافہ اور روزگار کے مواقع فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے، جس سے یمن میں پائیدار اور جامع ترقی کو فروغ ملا ہے۔
