ریاض میں معذوری اور دماغی فالج کی جلد تشخیص کی پہلی قومی ورکشاپ
ریاض میں معذوری اور دماغی فالج کی جلد تشخیص کے لیے پہلی قومی ورکشاپ کا آغاز ہوا، جس میں مقامی و بین الاقوامی ادارے شریک ہیں۔
اہم نکات
AIآج ریاض میں معذوری اور دماغی فالج کی جلد تشخیص کے لیے پہلی قومی ورکشاپ کا آغاز ہوا، جس میں نومولود بچوں کے لیے ہمریسمتھ نیورولوجیکل اسیسمنٹ (HINE) کا استعمال کیا جا رہا ہے۔ اس ورکشاپ کا انعقاد سعودی سوسائٹی آف نیونیٹولوجی نے کیا ہے، جو 12 سے 14 ستمبر 2026 تک جاری رہے گی۔
یہ ورکشاپ مملکت میں اپنی نوعیت کی پہلی ہے، جسے یونیورسٹی آف ٹورنٹو کی بین الاقوامی منظوری حاصل ہے اور اس میں سنی بروک ہیلتھ سائنسز سینٹر کے علاوہ مرکزِ شاہ سلمان برائے معذوری تحقیق کا بھی تعاون شامل ہے۔
ورکشاپ کا مقصد قومی طبی عملے کی صلاحیتوں کو اس قابل بنانا ہے کہ وہ بچوں میں دماغی فالج، معذوری اور نشوونما کی خرابیوں کی جلد تشخیص کر سکیں۔ اس کے لیے ہمریسمتھ نیورولوجیکل اسیسمنٹ کی تربیت دی جا رہی ہے، جس سے بچوں کو بروقت علاج، بحالی اور ابتدائی مداخلت کی سہولت مل سکے گی اور ان کی صحت کے نتائج بہتر ہوں گے۔
قومی سطح پر تشخیص اور فالو اپ کے نظام کی ترقی
ورکشاپ کا ہدف نیونیٹولوجی، بچوں کے اعصابی امراض، اطفال، نشوونما و ترقی، فزیوتھراپی، آکوپیشنل تھراپی اور نیورولوجیکل فالو اپ کلینکس کے ماہرین ہیں۔ اس کا مقصد تشخیصی طریقہ کار کو یکساں بنانا، ماہرین کا قومی نیٹ ورک قائم کرنا اور مختلف شعبوں کے درمیان تعاون کو فروغ دینا ہے۔
یہ ورکشاپ ایک وسیع تر قومی اقدام کا ابتدائی مرحلہ ہے، جس کا مقصد تشخیص، ریفرل، فالو اپ اور ابتدائی مداخلت کے نظام کو ترقی دینا ہے۔ اس کے علاوہ، متعلقہ قومی اداروں کے ساتھ ہم آہنگی اور ضروری منظوریوں کے بعد جلد تشخیص اور فالو اپ کے لیے قومی رجسٹر کی تیاری بھی اس منصوبے میں شامل ہے، جس سے بچوں اور ان کے خاندانوں کو فراہم کی جانے والی نگہداشت کے معیار میں بہتری آئے گی۔
