کابینہ کے 11 اہم فیصلے، 12 مئی ہر سال یوم عطیہ اعضاء مقرر
ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی زیر صدارت جدہ میں کابینہ اجلاس، بین الاقوامی تعاون اور قومی ترقی کے لیے متعدد معاہدوں اور اقدامات کی منظوری دی گئی۔
اہم نکات
AIولی عہد اور وزیراعظم شہزادہ محمد بن سلمان بن عبدالعزیز کی زیر صدارت مجلس وزراء کا اجلاس آج جدہ میں منعقد ہوا۔
اجلاس کے آغاز میں کابینہ نے سعودی عرب اور دوست و برادر ممالک کے درمیان حالیہ دنوں ہونے والی مشاورت اور بات چیت کا جائزہ لیا، جن میں بنگلہ دیش کے وزیراعظم طارق رحمن کا ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے نام پیغام بھی شامل ہے۔
کابینہ نے مکہ معاہدہ برائے مشترکہ دفاع کے تحت سعودی عرب، ترکی اور پاکستان کے درمیان اسٹریٹجک سیاسی و دفاعی کمیٹی کے پہلے اجلاس کے نتائج کو سراہا، جس میں سعودی عرب میں سیکرٹریٹ کے قیام اور مشترکہ تعاون کے فروغ کے لیے ادارہ جاتی اقدامات پر اتفاق کیا گیا، تاکہ علاقائی و عالمی سلامتی اور پائیدار امن کے لیے اجتماعی دفاع کو مضبوط بنایا جا سکے۔
وزیر اطلاعات سلمان بن یوسف الدوسری نے اجلاس کے بعد سعودی خبر رساں ایجنسی کو بتایا کہ کابینہ نے اسلامی تعاون تنظیم کے وزرائے خارجہ کے 23 ویں غیر معمولی اجلاس کے نتائج کا جائزہ لیتے ہوئے اس عزم کا اعادہ کیا کہ سعودی عرب تنظیم کے کردار کو مضبوط بنانے اور مسلم دنیا کے استحکام و امن کے لیے ہر ممکن تعاون جاری رکھے گا۔ اس موقع پر اسماعیل ولد الشیخ احمد کو سیکرٹری جنرل منتخب ہونے پر مبارکباد اور سابق سیکرٹری جنرل حسین ابراہیم طہ کی خدمات کو سراہا گیا۔
کابینہ نے علاقائی و عالمی تنظیموں میں سعودی عرب کے فعال کردار اور 21 سعودی شہروں کے عالمی ادارہ صحت سے صحت مند شہر قرار پانے کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ کامیابی انسانی فلاح اور پائیدار ترقی کے لیے حکومتی ترجیحات کی عکاس ہے۔
کابینہ نے قومی شجرکاری پروگرام کو اقوام متحدہ کی جانب سے زمین کی بحالی کے عالمی ماڈل ایوارڈ ملنے پر سراہا، جو ماحولیاتی تحفظ، نباتاتی تنوع اور زمین کی بحالی میں سعودی عرب کی قیادت کا اعتراف ہے۔
کابینہ نے عرب تنظیم برائے انتظامی ترقی کی ایگزیکٹو کونسل کی صدارت دوبارہ سعودی عرب کو ملنے کو عرب تعاون اور انسانی وسائل کی ترقی میں سعودی کردار کا اعتراف قرار دیا۔
کابینہ نے اپنے ایجنڈے میں شامل مختلف امور کا جائزہ لیا، جن میں مجلس شوریٰ کی سفارشات اور متعلقہ کمیٹیوں کی آراء بھی شامل تھیں، اور مندرجہ ذیل فیصلے کیے:
اول:
سعودی عرب اور یونان کے درمیان سفارتی، خصوصی اور سروس پاسپورٹ ہولڈرز کے لیے ویزا کی شرط سے استثنیٰ کی منظوری۔
دوم:
وزیر خزانہ یا ان کے نمائندے کو سعودی عرب اور ارجنٹائن کے درمیان آمدنی اور سرمایہ پر ٹیکس سے دوہری ٹیکس سے بچاؤ اور ٹیکس چوری کی روک تھام کے معاہدے پر دستخط کا اختیار۔
سوم:
سعودی وزارت بلدیات و دیہی امور اور شام کی وزارت مقامی انتظامیہ و ماحولیات کے درمیان بلدیاتی و رہائشی شعبوں میں تعاون کے معاہدے کی منظوری۔
چہارم:
سعودی معذور افراد کی نگہداشت کی اتھارٹی اور جبوتی کی قومی ایجنسی برائے معذور افراد کے درمیان معذوروں کی نگہداشت کے شعبے میں مفاہمتی یادداشت کی منظوری۔
پنجم:
سعودی انشورنس اتھارٹی کے سربراہ یا ان کے نمائندے کو غیرنزی مالیاتی خدمات کمیٹی کے ساتھ تربیت اور افرادی قوت کی تیاری کے شعبے میں تعاون کی مفاہمتی یادداشت پر مذاکرات اور دستخط کا اختیار۔
ششم:
شاہ فہد نیشنل لائبریری اور پولینڈ کی نیشنل لائبریری کے درمیان مفاہمتی یادداشت کی منظوری۔
ہفتم:
تعاون تنظیموں کے نظام کی منظوری۔
ہشتم:
ہر سال 12 مئی کو یوم عطیہ اعضاء کے طور پر منانے کی منظوری۔
نہم:
جامعہ القصیم، جامعہ الجوف اور جامعہ حائل کے گزشتہ دو مالی سالوں کے حتمی حسابات کی منظوری۔
دہم:
کابینہ کے ایجنڈے میں شامل متعدد امور پر ضروری اقدامات کی ہدایت، جن میں جنرل اتھارٹی برائے ڈیفنس ڈیولپمنٹ، معذور افراد کی نگہداشت کی اتھارٹی، نفقہ فنڈ اور سعودی مرکز برائے اقتصادی امور کی سالانہ رپورٹس شامل ہیں۔
یازدہم:
ڈاکٹر شاہر بن احمد العوفی کو امارت مدینہ منورہ میں پندرہویں گریڈ پر نائب گورنر مقرر کرنے کی منظوری۔
