70 سے زائد ممالک کے 176 علما و وزرا کی حوثی حملوں کی مذمت
دنیا بھر کے 70 سے زائد ممالک کے 176 وزرا، علما اور مفتیان کرام نے سعودی عرب پر ایرانی حمایت یافتہ حوثی ملیشیا کے حملوں کی شدید مذمت کی ہے۔
اہم نکات
AIدنیا کے 70 سے زائد ممالک سے تعلق رکھنے والے 176 وزرا، علما، مفتیان کرام اور اسلامی تنظیموں و جامعات کے سربراہان نے ایران کی حمایت یافتہ حوثی ملیشیا کی جانب سے سعودی عرب پر ہونے والے حملوں کی شدید مذمت اور گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے ان حملوں کو حرمین شریفین کے امن، زائرین کی سلامتی اور سعودی عرب کے ہوائی اڈوں و اہم شہری تنصیبات کے لیے سنگین خطرہ قرار دیا اور کہا کہ وہ سعودی عرب کے ہر اس اقدام کی مکمل حمایت کرتے ہیں جو اپنی سرزمین کے دفاع، سلامتی اور مسلمانوں کے مقدسات کے تحفظ کے لیے کیا جائے۔
علما و رہنماؤں نے وزیر برائے اسلامی امور، دعوت و ارشاد شیخ ڈاکٹر عبداللطیف بن عبدالعزیز آل الشیخ کو ارسال کردہ بیانات اور پیغامات میں کہا کہ یہ حملے اسلامی مقدسات کی حرمت کی کھلی خلاف ورزی اور انسانی و اخلاقی اقدار کی پامالی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان حملوں کے ذریعے انسانی جانوں کی حرمت کو نظرانداز کیا گیا ہے، جس کی حفاظت اسلامی شریعت نے لازم قرار دی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حوثی ملیشیا کے یہ اقدامات اس کے انسانی و اخلاقی اقدار سے عاری ہونے کا ثبوت ہیں اور یہ خطے کے امن و استحکام کے لیے بڑا خطرہ ہیں، جس کے تدارک کے لیے عالمی سطح پر سخت مؤقف اور کارروائی کی ضرورت ہے تاکہ ان حملوں کو روکا جا سکے اور ذمہ داران کو بین الاقوامی قوانین کے مطابق جوابدہ بنایا جائے۔
انہوں نے حوثی ملیشیا کی جانب سے سعودی عرب کے ہوائی اڈوں اور اہم شہری تنصیبات کو نشانہ بنانے کی شدید مذمت کی اور کہا کہ ان حملوں سے شہریوں اور مسافروں کی سلامتی کو براہ راست خطرہ لاحق ہوا ہے، پروازوں میں خلل اور زائرین و معتمرین کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ معصوم جانوں کو خطرے میں ڈالنا، پرامن شہریوں کو خوفزدہ کرنا اور ضیوف الرحمن کی آمد میں رکاوٹ ڈالنا انسانی جان کی حرمت اور اسلامی و اخلاقی اقدار کی کھلی خلاف ورزی ہے، جو بین الاقوامی قوانین اور روایات کی بھی سنگین خلاف ورزی ہے۔ اس صورتحال میں عالمی برادری کو چاہیے کہ وہ شہری تنصیبات کے تحفظ اور مسافروں کی سلامتی کے لیے فوری اور سنجیدہ اقدامات کرے۔
رہنماؤں نے اس بات پر زور دیا کہ سعودی عرب کے ساتھ کھڑا ہونا وقت کی اہم ضرورت اور دینی، اخلاقی و انسانی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے کہا کہ حرمین شریفین کا امن اور زائرین کی سلامتی صرف سعودی عرب کا معاملہ نہیں بلکہ پوری امت مسلمہ کا مسئلہ ہے، کیونکہ مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ مسلمانوں کے دلوں میں خاص مقام رکھتے ہیں اور ان کی حرمت پوری دنیا کے مسلمانوں کے لیے اہم ہے۔ انہوں نے کہا کہ سعودی عرب کی سلامتی یا مقدسات کو خطرہ لاحق ہونا پوری امت کے جذبات پر حملہ ہے۔
تمام رہنماؤں نے اس امر پر اتفاق کیا کہ سعودی عرب کی جانب سے اپنی سرزمین کے دفاع، امن و استحکام کے قیام اور حرمین شریفین و زائرین کے تحفظ کے لیے کیے گئے اقدامات کو دنیا بھر کے مسلمانوں اور باشعور افراد کی مکمل حمایت حاصل ہے۔ انہوں نے کہا کہ سعودی عرب کو اپنی خودمختاری، شہریوں اور مقیمین کے تحفظ اور مقدسات و شہری تنصیبات کی سلامتی کے لیے ہر ضروری اقدام کا حق حاصل ہے۔
انہوں نے خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز اور ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی قیادت میں سعودی عرب کے تاریخی اور قائدانہ کردار کو سراہا، خصوصاً اسلام اور مسلمانوں کی خدمت، حرمین شریفین کی دیکھ بھال اور ضیوف الرحمن کے لیے سہولیات فراہم کرنے کے حوالے سے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ عظیم خدمات دنیا بھر کے مسلمانوں کے لیے باعث فخر ہیں اور سعودی عرب پر حملے اس کی اسلامی حیثیت اور مقدسات کے تحفظ کی ذمہ داری سے الگ نہیں کیے جا سکتے۔
انہوں نے عالمی برادری، متعلقہ اداروں اور تنظیموں سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی قانونی، انسانی اور اخلاقی ذمہ داریاں پوری کریں، ان حملوں کے خلاف سخت اقدامات کریں، ذمہ داران کو سزا دیں، ان حملوں کی روک تھام کریں اور شہریوں، مذہبی مقامات، ہوائی اڈوں اور اہم تنصیبات کو ہر قسم کے خطرے سے محفوظ بنائیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ان حملوں کے خلاف نرمی برتنا ان کے تسلسل کا باعث بنے گا، معصوم جانوں کو خطرے میں ڈالے گا اور خطے میں امن و استحکام کی کوششوں کو نقصان پہنچائے گا۔
آخر میں وزرا، علما، مفتیان کرام اور اسلامی قیادت نے اپنے بیانات اور پیغامات میں سعودی عرب، اس کی قیادت اور عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی اور حمایت کا اعادہ کیا اور دعا کی کہ اللہ تعالیٰ خادم الحرمین الشریفین اور ولی عہد کو سلامت رکھے، سعودی عرب کو امن، عزت اور استحکام عطا کرے، حرمین شریفین اور زائرین کو ہر آفت سے محفوظ رکھے اور حملہ آوروں کے عزائم کو ناکام بنائے۔
