امفیٹامین اسمگلنگ پر مشرقی ریجن میں ایک مجرم کو سزائے موت
وزارت داخلہ نے امفیٹامین گولیوں کی اسمگلنگ کے جرم میں ایک سعودی شہری کو سزائے موت دینے کا اعلان کیا ہے۔
اہم نکات
AIوزارت داخلہ نے آج مشرقی ریجن میں ایک مجرم کو سزائے موت دیے جانے کے حوالے سے بیان جاری کیا، جس کا متن درج ذیل ہے:
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: "اور زمین میں اصلاح کے بعد فساد نہ پھیلاؤ"، اور فرمایا: "زمین میں فساد نہ چاہو، بے شک اللہ فساد کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا"، اور فرمایا: "اللہ فساد کو پسند نہیں کرتا"، اور فرمایا: "جو لوگ اللہ اور اس کے رسول سے لڑتے ہیں اور زمین میں فساد پھیلانے کی کوشش کرتے ہیں، ان کی سزا یہی ہے کہ انہیں قتل کیا جائے یا سولی پر چڑھایا جائے یا ان کے ہاتھ اور پاؤں مخالف سمتوں سے کاٹ دیے جائیں یا انہیں ملک بدر کر دیا جائے۔ یہ ان کے لیے دنیا میں رسوائی ہے اور آخرت میں ان کے لیے بڑا عذاب ہے۔"
محمد بن نافع بن راکان الشمری (سعودی شہری) نے امفیٹامین نشہ آور گولیاں مملکت میں اسمگل کرنے کی کوشش کی۔ اللہ کے فضل سے سکیورٹی اداروں نے مذکورہ مجرم کو گرفتار کیا اور تفتیش کے بعد اس پر جرم ثابت ہوا۔ متعلقہ عدالت میں مقدمہ چلایا گیا، جہاں اس کے خلاف جرم ثابت ہونے پر سزائے موت تعزیراً سنائی گئی۔ اپیل کے بعد یہ فیصلہ سپریم کورٹ نے بھی برقرار رکھا اور شاہی فرمان کے تحت اس پر عمل درآمد کیا گیا۔
مجرم محمد بن نافع بن راکان الشمری (سعودی شہری) کو سزائے موت تعزیراً جمعرات 21 ربیع الاول 1448ھ، بمطابق 3 ستمبر 2026ء کو مشرقی ریجن میں دی گئی۔
وزارت داخلہ اس اعلان کے ذریعے واضح کرتی ہے کہ سعودی حکومت شہریوں اور مقیم افراد کو منشیات کی لعنت سے محفوظ رکھنے کے لیے پرعزم ہے اور اسمگلروں و فروخت کنندگان کے خلاف سخت ترین قانونی سزائیں نافذ کرتی ہے، کیونکہ یہ معصوم جانوں کے ضیاع، نوجوانوں اور معاشرے میں شدید فساد اور حقوق کی پامالی کا سبب بنتی ہیں۔ وزارت ہر اس شخص کو خبردار کرتی ہے جو اس جرم کا ارتکاب کرے کہ اس کا انجام شرعی سزا ہی ہوگا۔
اللہ ہی سیدھے راستے کی طرف رہنمائی کرنے والا ہے۔
