مواد پر جائیں
جمعرات، 6 اگست، 2026 · ریاض
العربيةEnglishنیوز لیٹررابطہ
سعودی عرب

مصنوعی ذہانت انسانی عقل کا متبادل نہیں: جامعہ بیشہ کی ماہر

جامعہ بیشہ کی مشرفہ برائے سائبر سکیورٹی ڈاکٹر منیرہ الدویرج نے کہا ہے کہ مصنوعی ذہانت کے آلات انسانی عقل کی جگہ نہیں لے سکتے بلکہ یہ صرف معاون ہیں۔

عاجل اردو1 گھنٹے پہلے · 1 منٹ مطالعہ
جامعہ بیشہ میں مصنوعی ذہانت کی سرگرمیوں کا منظر

اہم نکات

AI

جامعہ بیشہ میں سائبر سکیورٹی کی مشرفہ ڈاکٹر منیرہ الدویرج نے چینل "الاخباریہ" سے گفتگو میں کہا ہے کہ مصنوعی ذہانت کے مختلف شعبوں اور تخصصات کے آلات انسانی عقل کا متبادل نہیں بن سکتے، بلکہ یہ صرف ایسے معاون اوزار ہیں جو وقت اور محنت کی بچت میں مدد دیتے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجیز سے فائدہ اٹھانا چاہیے، لیکن انہیں صرف کام اور پیداوار میں معاون سمجھا جائے، انسانی سوچ کا متبادل نہیں۔

یہ بات انہوں نے جامعہ بیشہ کی جانب سے النماص کے ممشى الضباب پارک میں منعقدہ "سالِ مصنوعی ذہانت" کی سرگرمیوں کے موقع پر کہی، جس میں سائنسی نشستیں، ورکشاپس، انٹرایکٹو اسٹالز اور تکنیکی تجربات شامل ہیں، جن کا مقصد مصنوعی ذہانت کے اطلاقات سے متعلق آگاہی اور علم کو فروغ دینا ہے۔

اس مہم میں ایک بھرپور دن کی سرگرمیاں شامل ہیں، جن میں سائنسی نشستیں، ورکشاپس، انٹرایکٹو اسٹالز اور تکنیکی تجربات پیش کیے جا رہے ہیں۔ یہ سب "سالِ مصنوعی ذہانت" کی جامعہ بیشہ کی جانب سے النماص میں منعقدہ سرگرمیوں کا حصہ ہیں۔


تبصرے (0)