سعودی عرب، ترکی، پاکستان اور مصر کا مشترکہ بیان: مملکت پر حملے ناقابل قبول
سعودی عرب، ترکی، پاکستان اور مصر نے حوثی حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے مملکت سے مکمل یکجہتی کا اظہار کیا ہے۔
اہم نکات
AIسعودی عرب، مصر، پاکستان اور ترکی پر مشتمل چار ملکی گروپ نے سعودی عرب کے خلاف حوثی ملیشیا کے مسلسل جارحانہ حملوں کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔
گروپ نے اپنے مشترکہ بیان میں واضح کیا کہ حالیہ حملوں میں ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کو نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں متعدد شہری جاں بحق اور زخمی ہوئے، جبکہ شہری تنصیبات اور بنیادی ڈھانچے کو بھی نقصان پہنچا۔ یہ حملے بین الاقوامی قانون کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔
چاروں ممالک نے اس بات پر زور دیا کہ یہ حملے مملکت کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت پر واضح حملہ، اس کے امن و استحکام اور شہریوں کی سلامتی کے لیے براہ راست خطرہ اور ایک سنگین اشتعال انگیزی ہیں، جنہیں کسی صورت جواز یا قبولیت نہیں دی جا سکتی۔
اسی تناظر میں گروپ نے سعودی عرب کے ساتھ مکمل یکجہتی اور ان تمام قانونی اقدامات کی حمایت کا اعادہ کیا جو مملکت اپنی سلامتی کے دفاع اور خطرات کے سدباب کے لیے اقوام متحدہ کے منشور اور بین الاقوامی قانون کے مطابق اٹھا رہی ہے۔
گروپ نے حوثی ملیشیا کو ان حملوں اور ان کے نتیجے میں علاقائی و عالمی امن و سلامتی کو لاحق خطرات کا مکمل ذمہ دار قرار دیا اور ان حملوں کے فوری اور غیر مشروط خاتمے کا مطالبہ کیا۔
