عبدالرحمن سید امریکی سینیٹ کی دوڑ میں، پہلے مسلم سینیٹر بننے کے قریب
ڈیموکریٹک پارٹی کے امیدوار عبدالرحمن سید نے مشی گن سے امریکی سینیٹ کی پرائمری جیت لی، نومبر میں کامیابی کی صورت میں وہ پہلے مسلم سینیٹر ہوں گے۔
اہم نکات
AIڈیموکریٹک پارٹی کے امیدوار عبدالرحمن سید کی مشی گن سے امریکی سینیٹ کی پرائمری میں کامیابی پر مختلف حلقوں کی جانب سے ملے جلے ردعمل سامنے آئے ہیں۔ اگر وہ نومبر میں ہونے والے انتخابات میں بھی کامیاب ہو جاتے ہیں تو وہ امریکہ کی تاریخ میں پہلے مسلم سینیٹر بن جائیں گے۔
عبدالرحمن سید کون ہیں؟
عبدالرحمن سید (عبدول سید) مصری نژاد امریکی معالج ہیں، جو صحت عامہ کے فروغ اور امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ کے خاتمے کے حامی ہیں۔ وہ امریکی نظام صحت کی بہتری کے ماہر مانے جاتے ہیں اور ان کی کتاب "ہیلتھ کیئر فار آل: اے سٹیزن گائیڈ" میں ہر امریکی کے لیے معیاری اور سستی صحت کی سہولیات کی تشکیل پر روشنی ڈالی گئی ہے۔
اکتالیس سالہ عبدالرحمن سید کے والد مصر سے ہجرت کر کے امریکہ آئے تھے۔ وہ جنوب مشرقی مشی گن میں پیدا ہوئے اور سرکاری اسکولوں میں تعلیم حاصل کی۔ انہوں نے یونیورسٹی آف مشی گن سے گریجویشن کیا اور کولمبیا یونیورسٹی سے امریکی نیشنل انسٹی ٹیوٹس آف ہیلتھ کی اسکالرشپ پر ایم ڈی کی ڈگری حاصل کی۔ بعد ازاں انہوں نے روڈز اسکالر کے طور پر آکسفورڈ یونیورسٹی سے دوسری ڈاکٹریٹ کی اور ڈیٹرائٹ شہر میں صحت کے ڈائریکٹر کے طور پر نمایاں ہوئے۔ بعد ازاں وہ مشی گن کے گورنر کے انتخاب میں بھی حصہ لے چکے ہیں۔
سن 2020 میں انہیں صدر جو بائیڈن کی صحت عامہ کی ٹیم میں شامل کیا گیا، جہاں انہوں نے ادویات کی قیمتوں میں کمی سے متعلق پالیسی سازی میں کردار ادا کیا۔
عبدالرحمن سید نے اس سے قبل کوئی منتخب عہدہ نہیں سنبھالا۔ سن 2018 میں گورنر کی پرائمری میں بیس پوائنٹس سے شکست کے بعد وہ سیاست سے دور ہو گئے تھے۔ اس دوران انہوں نے پوڈکاسٹ شروع کیا، کتاب لکھی، یوٹیوب اور ٹی وی پر باقاعدگی سے نظر آنے لگے اور آہستہ آہستہ اپنی حمایت میں اضافہ کیا۔
جب موجودہ سینیٹر گیری پیٹرز نے دوبارہ انتخاب نہ لڑنے کا اعلان کیا اور مشی گن میں سینیٹ کی نشست خالی ہوئی تو عبدالرحمن سید نے اپریل 2025 میں صرف چار افراد کی ٹیم کے ساتھ اپنی انتخابی مہم کا آغاز کیا۔
کانگریس انتخابات میں عبدالرحمن سید کی نامزدگی
عبدالرحمن سید نے پرائمری میں اعتدال پسند ڈیموکریٹ رکن کانگریس ہالی اسٹیونز کو معمولی فرق سے شکست دی۔ وہ اسٹیونز سے پندرہ ہزار ووٹ سے بھی کم آگے رہے، جو کل ڈالے گئے پندرہ لاکھ سے زائد ووٹوں کا تقریباً ایک فیصد بنتا ہے۔ یہ ریاست کی جدید تاریخ میں سب سے زیادہ ووٹ تھے۔
اب نومبر میں ہونے والے وسط مدتی انتخابات میں ان کا مقابلہ ریپبلکن امیدوار اور سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حامی مائیک راجرز سے ہوگا۔
کامیابی کے بعد عبدالرحمن سید نے معروف باکسر محمد علی کے 1964 کے تاریخی جملے کو دہراتے ہوئے کہا: 'ہم نے دنیا کو ہلا دیا'۔
انہوں نے مزید کہا: "سیاست سے پیسے کا خاتمہ، شہریوں کی معاشی حالت میں بہتری اور سب کے لیے صحت کی سہولت کی تحریک بہت بڑی ہے"۔ یہ وہ نعرہ ہے جو انہوں نے اپنی انتخابی مہم کے دوران بار بار دہرایا۔
بدھ کو اپنے فتح کے خطاب میں انہوں نے کہا: "گزشتہ اپریل میں مجھے یاد ہے کہ میں پانچ افراد کے کمرے میں بات کر رہا تھا۔ یہ ہمارے لیے درد اور مقصد پر کھل کر بات کرنے کا موقع تھا۔ پچھلے پندرہ ماہ میں میں نے ایسے پانچ سو مکالمے کیے"۔
انہوں نے بتایا کہ انہوں نے 110 شہروں کا دورہ کیا اور پانچ سو سے زائد تقریبات منعقد کیں۔ ان کی انتخابی مہم کے ساتھ رضاکاروں کی تعداد بڑھتے بڑھتے بارہ ہزار تک جا پہنچی۔
ان کی حریف اسٹیونز نے انہیں جیت پر مبارکباد دیتے ہوئے کہا: "میں عبدالرحمن سید کو امریکی سینیٹ کے لیے ڈیموکریٹک پارٹی کی نامزدگی جیتنے پر مبارکباد دیتی ہوں۔ وہ معالج، صحت عامہ کے رہنما، روڈز اسکالر اور مشی گن کے مخلص شہری ہیں۔ میں انہیں عام انتخابات میں مائیک راجرز کے مقابلے میں اپنی حمایت دیتی ہوں"۔
مشی گن صدارتی انتخابات میں فیصلہ کن ریاستوں میں شامل ہے۔ اس نے 2020 میں ڈیموکریٹ جو بائیڈن کو ووٹ دیا تھا جبکہ 2024 میں ٹرمپ کے حق میں ووٹ دیا۔
"اسرائیل" سے متعلق مؤقف
عبدالرحمن سید اور ان کی ڈیموکریٹ حریف ہالی اسٹیونز کے درمیان سب سے بڑا اختلاف "اسرائیل" کے حوالے سے ہے۔ سید مشرق وسطیٰ میں امریکی مداخلت اور اسرائیلی قبضے کو دی جانے والی امداد کے سخت مخالف ہیں، جبکہ اسٹیونز اسرائیل کی پُرجوش حامی ہیں اور تل ابیب کو بغیر کسی شرط کے امریکی امداد جاری رکھنے کی حامی ہیں۔
اسی مؤقف کی وجہ سے مشی گن کی یہودی کمیونٹی نے عبدالرحمن سید کی مخالفت کی۔
ٹرمپ کا ردعمل
عبدالرحمن سید کی کامیابی پر سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ مشی گن میں سینیٹ انتخابات کا نتیجہ ریپبلکن پارٹی کے لیے خوش آئند ہے۔
اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم "ٹروتھ سوشل" پر ٹرمپ نے ڈیموکریٹس کو "انتہا پسند" قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کی پالیسیاں مزید خراب ہوں گی۔
لاس ویگاس میں ایک خطاب کے دوران ٹرمپ نے عبدالرحمن سید پر "کمیونزم اپنانے" اور "امریکی خواب کو تباہ کرنے" کا الزام بھی عائد کیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ سید "یہودیوں اور اسرائیل سے نفرت کرتے ہیں"۔ ٹرمپ نے کہا: "وہ سب کو پسند نہیں کرتے، انہیں اس منصب تک پہنچا دیا گیا ہے، اب آپ دیکھیں گے کہ وہ کس کو پسند کرتے ہیں۔ وہ اسرائیل اور یہودیوں کو پسند نہیں کرتے بلکہ دل سے نفرت کرتے ہیں اور اس بارے میں کچھ نہیں کیا جا سکتا"۔
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے بھی خبردار کیا کہ مصری نژاد امریکی ڈاکٹر عبدالرحمن سید تین سال بعد صدارتی انتخاب میں حصہ لے سکتے ہیں۔
وینس نے کہا کہ اگر سید صدر بن گئے تو ان کی ممکنہ پالیسیوں سے وائٹ ہاؤس میں ہماری ساری محنت ضائع ہو سکتی ہے۔
