مواد پر جائیں
جمعرات، 23 جولائی، 2026 · ریاض
العربيةEnglishنیوز لیٹررابطہ
دنیا

ٹرمپ کی ایران پر وسیع حملوں کی دھمکی

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ایران کے خلاف وسیع فوجی کارروائی پر سنجیدگی سے غور کر رہے ہیں، جو 'غضب عارم' سے بڑی ہو سکتی ہے۔

عاجل اردو57 منٹ پہلے · 2 منٹ مطالعہ
ڈونلڈ ٹرمپ پریس کانفرنس میں

اہم نکات

AI

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات کو کہا ہے کہ وہ ایران کے خلاف وسیع فوجی کارروائی دوبارہ شروع کرنے پر سنجیدگی سے غور کر رہے ہیں، جس میں 'غضب عارم' آپریشن کے مقابلے میں زیادہ بڑے حملے شامل ہو سکتے ہیں۔

ویب سائٹ 'ایکسئوس' کو ایک مختصر انٹرویو میں ٹرمپ نے تسلیم کیا کہ اس طرح کے فیصلے کے بڑے نتائج ہوں گے، تاہم انہوں نے واضح کیا کہ ابھی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔

امریکی صدر نے کہا کہ اس فیصلے کے لیے کوئی ٹائم لائن طے نہیں کی گئی، جبکہ دو دیگر امریکی حکام نے تصدیق کی کہ وائٹ ہاؤس نے تاحال فوج کو کوئی نیا حکم جاری نہیں کیا اور آپریشن کے بارے میں حتمی فیصلہ نہیں ہوا۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب حالیہ فوجی کشیدگی کے باعث تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی ہیں، جبکہ امریکہ میں مکمل جنگ کے امکان کو وسیع پیمانے پر مسترد کیا جا رہا ہے۔

'بڑا حملہ'

ٹرمپ نے کہا: 'میں ایک بڑا حملہ کرنے پر غور کر رہا ہوں، جو پہلے کبھی نہیں ہوا۔ میں فیصلے کے قریب ہوں اور سب کچھ تیار ہے'۔

انہوں نے مزید کہا کہ اگر میں اسرائیل سے کہوں تو وہ دو منٹ میں شامل ہو جائے گا، تاہم امریکہ کو ایران کے خلاف نئی فوجی کارروائی کے لیے کسی اور کی ضرورت نہیں۔

ساتھ ہی انہوں نے اشارہ دیا کہ اسرائیل کی شمولیت کی صورت میں اس کے 'نتائج' ہوں گے، جس سے مراد ممکنہ ایرانی ردعمل ہے۔

مذاکرات میں تعطل

ٹرمپ نے کہا کہ ایرانی 'مذاکرات کرنا چاہتے ہیں'، لیکن وہ اس وقت معاہدے کے لیے تیار نہیں۔

انہوں نے مزید کہا: 'انہیں ابھی تک کافی تکلیف نہیں پہنچی'۔

ادھر خطے کے دو باخبر ذرائع نے بتایا کہ ایرانی قیادت نے اب تک تازہ ترین تجاویز پر رضامندی ظاہر نہیں کی۔

ایک ذریعے نے کہا: 'ہم کوشش کر رہے ہیں، لیکن ایرانی تعاون نہیں کر رہے'۔

تبصرے (0)