امریکہ کی نئی پابندیاں: چین، بھارت، روس اور ایران کی کمپنیوں و افراد پر کارروائی
امریکہ نے ایران سے متعلق پابندیوں کا دائرہ وسیع کرتے ہوئے چین، بھارت، روس اور ایران کی کمپنیوں اور افراد کو فہرست میں شامل کر لیا ہے۔
اہم نکات
AI
امریکہ نے ایران سے متعلق اپنی پابندیوں کا دائرہ وسیع کرتے ہوئے چار ممالک کی کمپنیوں اور افراد کو اپنی پابندیوں کی فہرست میں شامل کر لیا ہے۔ یہ اقدام ایرانی ایئرلائن 'ماہان ایئر' اور ایرانی پاسداران انقلاب کو مالی، لاجسٹک اور تجارتی معاونت فراہم کرنے کے الزامات کے تحت اٹھایا گیا ہے۔
امریکی محکمہ خزانہ نے جمعرات کو ایک بیان میں کہا کہ چین، بھارت، روس اور ایران میں چھ اداروں اور افراد پر پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔ بیان کے مطابق یہ افراد اور کمپنیاں 'ماہان ایئر' کے جنرل سیلز ایجنٹس کے طور پر کام کر رہے تھے، جس پر پہلے ہی امریکی اور یورپی پابندیاں عائد ہیں۔
محکمہ خزانہ کے مطابق 'ماہان ایئر' اگرچہ خود کو ایک سول ایئرلائن ظاہر کرتی ہے، تاہم اس نے ایرانی پاسداران انقلاب کی قدس فورس کو اہلکاروں کی نقل و حمل، عسکری تربیتی پروگراموں میں سہولت اور ڈرون و اسلحے کے نظام کی خرید و ترسیل میں مدد فراہم کی ہے۔
امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیزنٹ نے کہا کہ جو ادارے پاسداران انقلاب یا 'ماہان ایئر' کو مالی، لاجسٹک یا تجارتی خدمات فراہم کرتے ہیں، وہ ان کے بقول "دہشت گردی کے منصوبے" کی حمایت کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ واشنگٹن ان نیٹ ورکس کی نگرانی اور انہیں امریکی مالیاتی نظام تک رسائی سے محروم کرنے کا سلسلہ جاری رکھے گا۔
محکمہ خزانہ نے مزید کہا کہ ان پابندیوں کا مقصد 'ماہان ایئر' کی عالمی معاونت کرنے والے نیٹ ورک کو غیر فعال کرنا اور ایران و پاسداران انقلاب پر معاشی دباؤ بڑھانا ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ یہ اقدام خطے کے ممالک اور ہرمز آبنائے میں تجارتی جہازوں پر ایرانی حملوں کے پس منظر میں کیا گیا ہے۔
پابندیوں میں چین، بھارت اور روس کی کمپنیاں اور افراد شامل ہیں، جن میں Shanghai Wings International Logistics، تانگ شین، Shanghai Elite International Travel، بھارتی کمپنی Skizz Travels اور روسی کمپنی Air Cargo Pro شامل ہیں۔ ان پر 'ماہان ایئر' کو سیلز اور معاونت فراہم کرنے کا الزام ہے۔
اسی سلسلے میں امریکی دفتر برائے غیر ملکی اثاثہ جات کنٹرول (OFAC) نے ایرانی کمپنی DadeNegar پر بھی پابندیاں عائد کی ہیں۔ اس کمپنی کو پاسداران انقلاب کی فرنٹ کمپنی قرار دیا گیا ہے، جس نے ایک ویب سائٹ کے ذریعے عسکری اہداف کی نشاندہی میں مدد کی اور امریکی و اسرائیلی تنصیبات کی معلومات اکٹھی کیں۔ بیان کے مطابق، اس کمپنی نے پاسداران انقلاب کے ساتھ مل کر مشرق وسطیٰ میں امریکی اہداف پر حملوں کی درخواستیں بھی وصول کیں۔
محکمہ خزانہ نے واضح کیا کہ یہ نئی پابندیاں انسداد دہشت گردی سے متعلق ایگزیکٹو آرڈر نمبر 13224 اور قومی سلامتی سے متعلق صدارتی ہدایت نامہ نمبر دو کے تحت عائد کی گئی ہیں، جن کا مقصد پاسداران انقلاب کو مالی و لاجسٹک وسائل سے محروم کرنا ہے۔
