اسکندریہ میں لرزہ خیز قتل، بیٹی پر والدہ کے قتل کا الزام
مصری پولیس نے اسکندریہ میں ایک فلیٹ سے معمر خاتون کی لاش کے ٹکڑے ملنے کے بعد معروف وکیل بیٹی کو والدہ کے قتل اور لاش کی بے حرمتی کے الزام میں گرفتار کر لیا۔
اہم نکات
AI
مصری سکیورٹی اداروں نے اسکندریہ کے علاقے سیدی بشر قبلی میں ایک رہائشی فلیٹ سے معمر خاتون کی لاش کے ٹکڑے ملنے کی تفصیلات جاری کر دی ہیں۔ واقعہ اس وقت سامنے آیا جب عمارت کے رہائشیوں نے بدبو کی شکایت کی، جس پر پولیس نے کارروائی کی۔ وزارت داخلہ نے بتایا کہ ایک معروف وکیل خاتون کو اپنی والدہ کے قتل اور لاش کے ٹکڑے کرنے کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا ہے۔
وزارت داخلہ کے مطابق، المنتزه اول پولیس اسٹیشن کو 20 تاریخ کو سیدی بشر قبلی کے ایک فلیٹ سے شدید بدبو کی اطلاع ملی۔ یہ فلیٹ وکیل "س.ا" اور ان کی 70 سالہ والدہ کا تھا۔
پولیس نے فلیٹ پر چھاپہ مارا تو معمر خاتون کی لاش کے مختلف حصے بکھرے ہوئے ملے۔ اس کے بعد وکیل خاتون کو گرفتار کر لیا گیا، جو خواتین کے حقوق اور ہراسانی کے خلاف سرگرم رہی ہیں۔ ان پر والدہ کے قتل اور لاش کی بے حرمتی کا الزام ہے۔
وزارت داخلہ کے مطابق، ملزمہ نے تفتیش میں اعتراف کیا کہ 17 تاریخ کو ان کی والدہ سے گھریلو تنازع اور بدسلوکی پر شدید جھگڑا ہوا، جس کے دوران انہوں نے والدہ کو مارا پیٹا اور پھر گلا دبا کر قتل کر دیا۔
ملزمہ کے بیان کے مطابق، اس کے بعد انہوں نے دو دن تک لاش کے ٹکڑے کیے اور پھر واقعہ چھپانے کے لیے فلیٹ چھوڑ کر چلی گئیں۔
عینی شاہدین اور ملزمہ کے ساتھیوں نے بتایا کہ گزشتہ تین برسوں میں وہ شدید نفسیاتی مسائل سے دوچار رہیں۔ ان کے مطابق، چھوٹی بیٹی کی موت کے بعد انہیں شدید ڈپریشن اور ذہنی صدمے کا سامنا کرنا پڑا اور انہوں نے کئی بار خودکشی کی کوشش بھی کی۔
