امریکا نے ملائیشیا کے سفیر کو اسرائیل پالیسی پر طلب کر لیا
ملائیشیا کے وزیر خارجہ کے مطابق امریکی وزارت خارجہ نے واشنگٹن میں ملائیشین سفیر کو اسرائیل سے متعلق کوالالمپور کے مؤقف کی وضاحت کے لیے طلب کیا ہے۔
اہم نکات
AIملائیشیا کے وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ امریکی وزارت خارجہ نے ریاستہائے متحدہ میں تعینات ملائیشیا کے سفیر کو اسرائیل کے حوالے سے کوالالمپور کے مؤقف کی وضاحت کے لیے طلب کیا ہے۔
وزیر خارجہ محمد حسن کے مطابق، سفیر محمد شہرول اکرام یعقوب نے امریکی وزارت خارجہ کو آگاہ کیا کہ اسرائیل کو تسلیم نہ کرنے کی ملائیشیا کی پختہ پالیسی کوئی نئی بات نہیں ہے۔
انہوں نے مزید کہا: "یہ ہمیشہ سے ملائیشیا کی پالیسی رہی ہے۔ ہماری امیگریشن پالیسی اسرائیل یا صہیونی ریاست کو تسلیم نہیں کرتی۔ ہمارا مؤقف ہمیشہ یہی رہا ہے۔"
سرکاری خبر رساں ایجنسی برناما کے مطابق، محمد حسن نے جمعرات کی شب بتایا کہ ایک شخص جس کے پاس امریکی اور اسرائیلی دونوں شہریتیں تھیں، امریکی پاسپورٹ پر ملائیشیا آیا۔ بعد میں تحقیقات سے معلوم ہوا کہ اس کے پاس اسرائیلی شہریت بھی ہے، جس کے بعد اسے ملک چھوڑنے کا کہا گیا۔
رائٹرز نے ملائیشیا میں امریکی سفارتخانے سے اس معاملے پر تبصرہ لینے کی کوشش کی ہے۔
یہ بحران اس وقت پیدا ہوا جب 'سکول' نامی نیٹ ورک، جو امریکی سرمایہ کار بالاجی سرینواسن نے ملائیشیا میں قائم کیا تھا اور جسے 'ڈیجیٹل خانہ بدوشوں' کی کمیونٹی کہا جاتا ہے، سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے اس میں اسرائیلی شرکاء کی موجودگی کے دعووں کے بعد جانچ پڑتال کی زد میں آیا۔
اسرائیل اور ملائیشیا کے درمیان کوئی سفارتی تعلقات نہیں ہیں اور ملائیشیا فلسطینی کاز کی بھرپور حمایت کے لیے جانا جاتا ہے۔
امیگریشن حکام کی جانب سے سکول نیٹ ورک کی تحقیقات کے بعد یہ بات سامنے آئی کہ اس میں شامل تمام افراد کے سفری دستاویزات درست ہیں۔ اس کے باوجود، حکام نے منگل کے روز اس نیٹ ورک کو بند کر دیا۔
بعد ازاں، امریکی کانگریس کے آٹھ ارکان نے وزیر خارجہ مارکو روبیو کو خط لکھ کر ملائیشیا کے وزیراعظم انور ابراہیم کی جانب سے اسرائیلی شہریوں کی ملک میں موجودگی پر نظر رکھنے اور فوری طور پر ملک بدر کرنے کے منصوبے پر اپنے غصے کا اظہار کیا۔
انہوں نے امریکی وزارت خارجہ پر زور دیا کہ وہ امریکہ اور ملائیشیا کے درمیان سکیورٹی اور معاشی تعلقات کا جائزہ لے۔
اراکین کانگریس نے وزارت خارجہ سے یہ بھی مطالبہ کیا کہ اگر پندرہ دن میں اس فیصلے پر نظرثانی نہ کی گئی تو ملائیشین فوج کے اہلکاروں کے لیے امریکی تربیتی پروگرام کی فنڈنگ روک دی جائے۔
