برطانیہ کا غزہ میں امن منصوبے پر فوری عملدرآمد کا مطالبہ
برطانیہ نے غزہ کے لیے جامع امن منصوبے پر تیزی سے عملدرآمد، انسانی صورتحال کی بہتری اور امدادی سامان کی بلا رکاوٹ فراہمی پر زور دیا ہے۔
اہم نکات
AIبرطانیہ نے غزہ کے لیے جامع امن منصوبے پر فوری عملدرآمد، انسانی صورتحال میں بہتری اور امدادی سامان کی بلا رکاوٹ فراہمی پر زور دیا ہے۔ برطانیہ نے اسرائیل سے مزید گذرگاہیں کھولنے اور امدادی، غذائی و طبی سامان کی فراہمی میں سہولت دینے کا مطالبہ کیا ہے، جبکہ غزہ میں انسانی صورتحال کی مسلسل خرابی پر خبردار بھی کیا ہے۔
اقوام متحدہ میں برطانیہ کی قائم مقام سفیر کیٹ فوسٹر نے سلامتی کونسل کے اجلاس میں مغربی کنارے اور مشرقی یروشلم میں بگڑتی صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے عام شہریوں کی ہلاکتوں اور ہزاروں اسرائیلیوں کے مسجد اقصیٰ میں داخل ہونے، نیز اسرائیلی فورسز کی جانب سے مشرقی یروشلم میں اقوام متحدہ کی ریلیف ایجنسی 'اونروا' کے قلندیا مرکز پر چھاپے کی مذمت کی۔
فوسٹر نے اسرائیل سے تحمل، استحکام کے قیام، بین الاقوامی قوانین کے احترام اور جرائم میں ملوث افراد کے احتساب کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ اقدامات مغربی کنارے میں وسیع تر عدم استحکام کا حصہ ہیں، جسے آبادکاروں کے تشدد نے مزید بڑھاوا دیا ہے۔ انہوں نے گزشتہ چار برسوں میں 104 اسرائیلی بستیوں کی تعمیر کی منظوری اور اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری سے تعمیراتی کام تیز کرنے کی نشاندہی کی، اور خبردار کیا کہ یہ اقدامات دو ریاستی حل کے امکانات کو دانستہ طور پر سبوتاژ کرنے کی کوشش ہیں۔
