امریکا کی ایران پر مسلسل گیارہویں رات فضائی حملے
امریکی سینٹرل کمانڈ نے اعلان کیا ہے کہ اس کی فورسز نے مسلسل گیارہویں رات ایران میں اہداف پر فضائی حملے کیے ہیں۔
اہم نکات
AIامریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے بدھ کو اعلان کیا ہے کہ اس کی فورسز نے مسلسل گیارہویں رات ایران کے اندر اہداف پر فضائی حملے کامیابی سے مکمل کیے ہیں۔
کمانڈ کے مطابق یہ حملے ایرانی فوجی آپریشن مراکز، بحری صلاحیتوں، ہوائی جہازوں کے ہینگرز، ڈرونز کے ذخیرہ کرنے کی تنصیبات اور فوجی لاجسٹک انفراسٹرکچر پر کیے گئے۔
کمانڈ نے اپنے بیان میں کہا کہ ان حملوں کا مقصد ایران کی اس صلاحیت کو مزید کمزور کرنا ہے جس سے وہ آبنائے ہرمز میں تجارتی جہاز رانی کو خطرے میں ڈال سکتا ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ ایران نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے 30 سے زائد تجارتی بحری جہازوں پر حملے کیے ہیں۔
سینٹرل کمانڈ نے مزید کہا کہ ان بلاجواز حملوں سے سینکڑوں معصوم ملاحوں کی جانیں خطرے میں پڑیں اور بحری نقل و حمل کی آزادی متاثر ہوئی۔
اس سے قبل کمانڈ نے بتایا تھا کہ اس کی فورسز نے مشرقی امریکی ساحلی وقت کے مطابق شام سات بجے سے ایران میں فوجی اہداف پر حملے شروع کیے، جو مسلسل گیارہویں دن جاری ہیں۔
کمانڈ نے اس بات کی تصدیق کی کہ ان حملوں کا مقصد ایران کی تجارتی جہاز رانی کو خطرے میں ڈالنے کی صلاحیت کو مزید کمزور کرنا ہے، جو خطے میں جاری امریکی فوجی کارروائیوں کا حصہ ہیں۔
امریکی حملے ایسے وقت میں جاری ہیں جب واشنگٹن اور تہران کے درمیان فوجی کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔ حالیہ دنوں میں امریکہ نے ایرانی فوجی تنصیبات اور انفراسٹرکچر کو نشانہ بنایا ہے، جبکہ خلیج میں اپنی فوجی اور بحری سرگرمیاں بھی بڑھا دی ہیں۔ دوسری جانب ایران نے اپنی سرزمین یا تنصیبات پر کسی بھی حملے کا جواب دینے کی دھمکی دی ہے، جس سے تنازع کے پھیلنے اور عالمی توانائی و بحری سلامتی پر اس کے اثرات کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔
