امریکا کی ایران کو سخت جوابی کارروائی کی دھمکی
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ اگر ضرورت پیش آئی تو ایران پر انتہائی سخت حملہ کیا جائے گا۔
اہم نکات
AIامریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکی افواج نے ایرانی فوجی صلاحیتوں کو 'زبردست تباہی' سے دوچار کیا ہے، اور واشنگٹن جو کچھ کر رہا ہے وہ 'فوجی کارروائی ہے، جنگ نہیں'۔
ٹرمپ نے کیمپ ڈیوڈ میں کابینہ اجلاس کے دوران کہا کہ 'ایران پر حملے کو پانچ ماہ گزر چکے ہیں، اس دوران اس کی بحری طاقت اور ڈرون حملے کی صلاحیتیں تباہ کر دی گئی ہیں'۔ انہوں نے ایران کے رویے کو 'غیر ایماندارانہ اور غیر شفاف' قرار دیا، تاہم کہا کہ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کیونکہ ان کی حالت بہت خراب ہے۔ اس کے باوجود، صدر ٹرمپ نے اشارہ دیا کہ 'ایران کے حوالے سے کچھ ہونے والا ہے'، جس سے ممکنہ نئے تنازعے کا عندیہ ملتا ہے۔
صدر ٹرمپ نے تسلیم کیا کہ ایران کے پاس اب بھی 'کچھ صلاحیتیں' موجود ہیں، تاہم ان کا کہنا تھا کہ ایران کے ساتھ جنگ 'امریکا کے نقطہ نظر سے اچھی جا رہی ہے'۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ضرورت پیش آئی تو 'ایران پر انتہائی سخت حملہ کیا جائے گا'، اور کہا کہ 'ہم صرف فتح چاہتے ہیں اور ہم اس میں کامیاب ہیں'۔
انہوں نے بتایا کہ ان کے ایلچی اسٹیو وٹکوف، جیرڈ کشنر، ان کے نائب جی ڈی وینس اور وزیر خارجہ مارکو روبیو ایران سے متعلق مذاکرات میں شریک ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ 'ایرانی یہ معاملہ دس منٹ میں ختم کر سکتے ہیں، لیکن وہ سات گھنٹے مذاکرات میں گزار دیتے ہیں'۔
دوسری جانب، حالیہ دنوں میں ایرانی افواج نے مشرق وسطیٰ کے کئی ممالک میں امریکی اڈوں پر حملے کیے ہیں، جبکہ تہران نے واشنگٹن پر جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا ہے۔
ایرانی حکام مسلسل یہ کہتے آ رہے ہیں کہ تہران جنگ نہیں چاہتا، لیکن وہ اپنی سرزمین کے دفاع میں کوئی ہچکچاہٹ نہیں دکھائے گا۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے اس سے قبل کہا تھا کہ ایران اب بھی مذاکرات کے لیے پرعزم ہے، لیکن کسی بھی جارحیت کا بھرپور جواب دے گا۔
