سوسنہ نخیل سرخ سے ہوشیار رہیں، وقاء کی وارننگ
مرکز وقاء نے کسانوں کو سوسنہ نخیل سرخ کے خطرات سے خبردار کرتے ہوئے ہر 60 روز بعد کھجور کے درختوں کا معائنہ کرنے کی ہدایت کی ہے۔
اہم نکات
AIقومی مرکز برائے تحفظ نباتات و حیوانات «وقاء» نے کسانوں کو سوسنہ نخیل سرخ کے خطرات سے خبردار کیا ہے اور زور دیا ہے کہ کھجور کے باغات میں ہر 60 دن بعد درختوں کا باقاعدہ معائنہ کیا جائے، تاکہ اس آفت کے پھیلاؤ کو روکا جا سکے اور ابتدائی مرحلے میں متاثرہ درختوں کی نشاندہی ہو سکے۔
مرکز نے اپنے سرکاری ایکس اکاؤنٹ پر جاری بیان میں کہا کہ بروقت تشخیص سے اس آفت پر قابو پانا اور اس کے پھیلاؤ کو روکنا آسان ہو جاتا ہے۔ سوسنہ نخیل سرخ کھجور کے درختوں کو نقصان پہنچانے والی سب سے خطرناک حشرات میں شمار ہوتی ہے، جو درخت کے اندرونی حصوں کو براہ راست متاثر کرتی ہے اور اگر بروقت علاج نہ ہو تو درخت کے مرنے کا سبب بن سکتی ہے۔
سوسنہ نخیل سرخ کی علامات
وقاء کے مطابق اس آفت کی نمایاں علامات میں متاثرہ جگہ سے بدبو دار رطوبت کا اخراج، اندرونی حصوں میں سرنگیں اور گلنا، درخت کے تنے میں سوراخ بن جانا (بالخصوص شدید حملے کی صورت میں)، اور متاثرہ مقام پر سنڈی یا بالغ حشرے کی موجودگی شامل ہیں۔
شدید حملے کی صورت میں کھجور کے پودے یا فسائل مر سکتے ہیں، درخت کا تنا ٹوٹ سکتا ہے یا درخت کی چوٹی ختم ہو سکتی ہے۔
آفت کے پھیلاؤ کے ذرائع
مرکز کے مطابق کھجور کی فسائل کا غیر قانونی تبادلہ سوسنہ نخیل سرخ کے پھیلاؤ کا بڑا ذریعہ ہے، اس کے علاوہ یہ حشرہ اڑ کر بھی ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہو سکتا ہے۔
تغریر X پر دیکھیں
سوسنہ نخیل سرخ سے بچاؤ
وقاء نے کسانوں پر زور دیا ہے کہ وہ حفاظتی زرعی طریقے اپنائیں، کھجور کے درختوں کی بروقت اور باقاعدہ جانچ کریں اور آفت کے خلاف مربوط انتظامی اقدامات اختیار کریں، جن میں حفاظتی تدابیر، مکینیکل و کیمیائی انجیکشن کے ذریعے کنٹرول اور مرکز کی فیلڈ ٹیموں کی جانب سے کی جانے والی گیسنگ شامل ہے۔
