دمياط بندرگاہ واقعہ: مصر نے تحقیقات شروع کر دیں
مصری صدر عبدالفتاح السیسی نے کہا ہے کہ دمياط بندرگاہ پر ڈرون حملے کے بعد متعلقہ ادارے تحقیقات کر رہے ہیں، اور علاقائی کشیدگی پر تشویش ظاہر کی ہے۔
اہم نکات
AIمصری صدر عبدالفتاح السیسی نے جمعرات کو کہا ہے کہ ملک کے متعلقہ ادارے دمياط بندرگاہ میں دو بحری جہازوں پر ڈرون حملے کے واقعے کی تفصیلات اور وجوہات جاننے کے لیے تحقیقات کر رہے ہیں۔ انہوں نے خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کو خطرناک قرار دیتے ہوئے مصر، اسپین، یورپ اور عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ اس کشیدگی کو روکنے کے لیے متحد ہو جائیں۔
یہ بات انہوں نے اسپین کے وزیراعظم پیدرو سانچیز سے ٹیلیفونک گفتگو کے دوران کہی۔
مصری صدارتی ترجمان سفیر محمد الشناوی نے بتایا کہ اسپین کے وزیراعظم نے گفتگو کا آغاز دمياط بندرگاہ کے واقعے کی مذمت اور اس مشکل وقت میں اسپین کی حکومت اور عوام کی جانب سے مصر سے مکمل یکجہتی کے اظہار سے کیا۔
ترجمان کے مطابق، دونوں رہنماؤں کے درمیان علاقائی صورتحال پر بھی بات چیت ہوئی، جس میں صدر السیسی نے خطے میں استحکام کی بحالی کے لیے مصر کی کوششوں سے آگاہ کیا۔
اسپین کے وزیراعظم نے ان کوششوں کو سراہتے ہوئے مشرق وسطیٰ میں امن و سلامتی کے لیے تنازعات کے پُرامن حل کی اہمیت پر زور دیا۔
اس موقع پر اسپین کے وزیراعظم نے اقوام متحدہ کے کردار اور مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ کے خاتمے کی ضرورت پر بھی زور دیا، اور فلسطینی مسئلے کے دو ریاستی حل کی حمایت کی۔
صدر السیسی نے گفتگو کے دوران اسپین میں حالیہ آتشزدگی کے متاثرین سے اظہار تعزیت اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کی دعا کی۔ انہوں نے کہا کہ مصر ہر ممکن مدد فراہم کرنے کے لیے تیار ہے اور اسپین کی ان مشکلات پر قابو پانے کی صلاحیت پر مکمل اعتماد ہے۔ اس کے علاوہ، صدر السیسی نے اسپین کے وزیراعظم کو فٹبال ورلڈ کپ جیتنے پر بھی مبارکباد دی، جس سے مراد فٹبال ورلڈ کپ ٹورنامنٹ میں اسپین کی کامیابی ہے۔
ترجمان نے مزید بتایا کہ اسپین کے وزیراعظم نے اس مشکل وقت میں مصری صدر کی جانب سے اظہار یکجہتی پر شکریہ ادا کیا اور دونوں ممالک کے درمیان تاریخی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار کیا۔
