مارادونا کی موت: ڈاکٹروں کی عدالتی سماعت میں ہنگامہ، فیصلہ پھر مؤخر
ارجنٹینا میں ڈیگو مارادونا کے معالجین کی عدالتی سماعت شتائم اور جذباتی مناظر کے باعث ڈرامائی رخ اختیار کر گئی، کیس کا فیصلہ ایک ماہ کیلئے مؤخر۔
اہم نکات
AIارجنٹینا کے عظیم فٹبالر ڈیگو مارادونا کے علاج پر مامور طبی ٹیم کی عدالتی سماعت ملک کی سب سے سنسنی خیز مقدمات میں تبدیل ہو گئی ہے۔ اب تک ہونے والی 25 سے زائد سماعتوں میں تلخ جملوں کا تبادلہ، شتائم اور رقت آمیز مناظر دیکھنے میں آئے، جبکہ مارادونا کی موت کے اسباب پر بحث جاری ہے۔
عدالت نے مقدمے کی سماعت ایک ماہ کے لیے مزید مؤخر کر دی ہے۔ اگرچہ کئی ماہ سے کارروائی جاری ہے اور تقریباً 70 گواہان اور ملزمان کے بیانات ریکارڈ ہو چکے ہیں، تاہم مقدمے کے اختتام کی حتمی تاریخ تاحال واضح نہیں۔
اپریل سے جاری اس عدالتی کارروائی میں سات طبی ماہرین پر مارادونا کی نومبر 2020 میں موت کے حوالے سے طبی غفلت کے الزامات عائد ہیں۔
استغاثہ کا مؤقف ہے کہ طبی نگہداشت میں کوتاہی مارادونا کی موت کا باعث بنی، جبکہ ملزمان ان الزامات کو مسترد کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ان کی موت قدرتی وجوہات کے باعث ہوئی۔
عدالتی کارروائی کے دوران کئی جذباتی لمحات دیکھنے میں آئے، جن میں مارادونا کی بیٹیوں کا بار بار آبدیدہ ہونا اور بعض ملزمان سے تلخ کلامی شامل ہے۔ اس کے علاوہ عدالت میں مارادونا کے گھر کے ماڈل، تصاویر اور شواہد بھی پیش کیے گئے جن کے ذریعے ان کے آخری دنوں میں دی جانے والی طبی نگہداشت کی صورتحال کو واضح کیا گیا۔
مارادونا 60 برس کی عمر میں دل کی ناکامی اور شدید پھیپھڑوں کی سوجن کے باعث انتقال کر گئے تھے۔ ان کی موت سے دو ہفتے قبل ان کے دماغ میں خون کا لوتھڑا ہٹانے کی سرجری بھی ہوئی تھی۔
اگرچہ عدالت نے مقدمے کو اگست میں نمٹانے کا ہدف مقرر کیا تھا، تاہم گواہیوں کی کثرت اور پیچیدگی کے باعث سماعت میں تاخیر ہو گئی ہے۔ ملزمان مسلسل اپنی صفائی پیش کر رہے ہیں کہ انہوں نے کوئی غفلت نہیں کی، جبکہ مارادونا کے اہل خانہ ذمہ داروں کے احتساب پر مصر ہیں۔
