افریقہ میں 55 فیصد سائبر جرائم میں مصنوعی ذہانت کا استعمال
انٹرپول کی رپورٹ کے مطابق افریقہ میں 2025 کے دوران 55 فیصد سائبر جرائم میں مصنوعی ذہانت کا کردار رہا، جس سے حملے تیز اور پیچیدہ ہوگئے۔
اہم نکات
AIانٹرپول نے پیر کو اپنی رپورٹ "افریقی سائبر خطرات کا جائزہ 2026" جاری کی، جس میں براعظم میں جرائم کے منظرنامے میں خطرناک تبدیلی کی نشاندہی کی گئی ہے: 2025 کے دوران درج ہونے والے 55 فیصد سائبر جرائم میں مصنوعی ذہانت کا استعمال ہوا، جس سے حملے تیز، وسیع اور متاثرین و پلیٹ فارمز دونوں کے لیے شناخت کرنا مشکل ہوگئے۔
رپورٹ کے مطابق، جو تنظیم کے 36 افریقی رکن ممالک اور نجی شعبے کے شراکت داروں کے سروے ڈیٹا پر مبنی ہے، 2024 اور 2025 کے درمیان رپورٹ ہونے والے مالی نقصانات 192 ملین ڈالر سے بڑھ کر 484 ملین ڈالر ہوگئے، جبکہ متاثرین کی تعداد 35 ہزار سے بڑھ کر 87 ہزار تک جا پہنچی۔ اس اضافے کی بڑی وجہ مصنوعی ذہانت سے چلنے والے فراڈ، اسناد کی چوری اور خودکار سوشل انجینئرنگ مہمات ہیں۔
سب سے تشویشناک بات یہ ہے کہ مجموعی اندازوں کے مطابق 2025 میں سائبر جرائم نے براعظم کو کم از کم 5 ارب ڈالر کا براہ راست معاشی نقصان پہنچایا، جبکہ اسی عرصے میں افریقہ کا مجموعی سائبر سکیورٹی بجٹ 15.3 ارب ڈالر رہا۔ رپورٹ نے اس تضاد کو "انتہائی خطرناک اسٹریٹجک خلا" قرار دیا: دفاعی سرمایہ کاری بڑھ رہی ہے، مگر حملوں کی رفتار اور حجم اس سے کہیں زیادہ تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔
سرحدوں سے ماورا منظم جرائم کا نیٹ ورک
فرانسیسی شہر لیون میں انٹرپول کے صدر دفتر سے جاری رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سائبر جرائم اب الگ تھلگ واقعات نہیں رہے، بلکہ یہ سرحدوں سے ماورا ایک منظم نیٹ ورک کی شکل اختیار کرچکے ہیں، جو قوانین کے فرق اور ممالک کے درمیان معلومات کے تبادلے کی کمی کا فائدہ اٹھا کر تیزی سے ایک دائرہ اختیار سے دوسرے میں منتقل ہو جاتے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق، رپورٹ ہونے والے جرائم میں 17 فیصد کے ساتھ آن لائن فراڈ سرفہرست رہا، اس کے بعد جنسی بلیک میلنگ، آن لائن ہراسانی، شناخت کی چوری اور مالی فراڈ ہر ایک 14 فیصد کے ساتھ رہے۔ سروے میں شامل 72 فیصد ممالک نے اپنی سرزمین پر "فراڈ سینٹرز" کی موجودگی کی نشاندہی کی — یہ وہ مقامات ہیں جہاں انسانی اسمگلنگ کے متاثرین کو قید کر کے فراڈ کی کارروائیوں پر مجبور کیا جاتا ہے، جن کی سب سے زیادہ تعداد جنوبی اور مغربی افریقہ میں پائی گئی۔
موبائل منی سروسز کے فراڈ نے بھی بڑے پیمانے پر سر اٹھایا؛ 97 فیصد ممالک نے اس کی اطلاع دی۔ صرف کینیا میں 2025 کے دوران 1 لاکھ 23 ہزار جعلی سم کارڈز پکڑے گئے، جبکہ "سم سویپ" فراڈ میں 327 فیصد اضافہ ہوا اور ڈیجیٹل والٹس سے تقریباً 3.8 ملین ڈالر نکال لیے گئے۔
ڈیپ فیک واقعات میں سات گنا اضافہ، جعلی شناختیں بایومیٹرک سسٹمز کو دھوکہ دینے لگیں
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ افریقہ میں 2024 کی دوسری اور چوتھی سہ ماہی کے درمیان ڈیپ فیک واقعات میں سات گنا اضافہ ہوا، جن میں مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ آوازوں اور ویڈیوز کے ذریعے سرکاری عہدیداروں، ایگزیکٹوز اور حتیٰ کہ متاثرین کے اہل خانہ کی شناخت چوری کی گئی۔ یوگنڈا میں ایک معروف شخصیت کی جعلی ویڈیو کے ذریعے جعلی سرمایہ کاری اسکیم کو فروغ دیا گیا، جس سے حکام کی مداخلت سے قبل دو ملین ڈالر سے زائد کا نقصان ہوا۔
مجرم اب صرف اسناد کی چوری تک محدود نہیں رہے، بلکہ انہوں نے مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ جعلی شناختیں بھی بنا لیں، جو اصل ذاتی معلومات اور جعلی عناصر کو ملا کر تیار کی جاتی ہیں۔ یہ ڈیجیٹل شناختیں جدید بایومیٹرک تصدیقی نظام کو بھی دھوکہ دینے میں کامیاب رہیں اور ان کے ذریعے بینک اکاؤنٹس کھولے گئے، قرضے حاصل کیے گئے اور جعلی ناموں پر سم کارڈز جاری کیے گئے۔
انٹرپول کی شراکت دار پلیٹ فارم "TrendAI" نے 2025 میں افریقہ میں تقریباً 6 لاکھ آن لائن جنسی بلیک میلنگ کے کیسز ریکارڈ کیے، جن میں زیادہ تر مہمات جنوبی افریقہ، کینیا اور کوٹ ڈی ووار سے شروع ہوئیں۔ رپورٹ میں کم عمر بچوں کو نشانہ بنانے کے بڑھتے ہوئے رجحان پر بھی خبردار کیا گیا ہے؛ "میٹا" نے 2025 میں انسٹاگرام اور فیس بک پر بچوں کے استحصال کے لیے استعمال ہونے والے 6 لاکھ 35 ہزار اکاؤنٹس حذف کیے — جو 2023 کے مقابلے میں دس گنا زیادہ ہیں۔
رپورٹ میں "PromptLock" نامی رینسم ویئر کا بھی ذکر ہے، جو اپنی نوعیت کا پہلا میلویئر ہے جو مصنوعی ذہانت سے اپنی کوڈنگ، ایڈجسٹمنٹ اور خودکار عمل انجام دیتا ہے۔ اگرچہ یہ فی الحال صرف ایک تعلیمی ماڈل ہے اور عملی طور پر سامنے نہیں آیا، لیکن رپورٹ کے مطابق یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ ٹیکنالوجی دستیاب ہے اور مجرموں کے بڑے پیمانے پر استعمال میں آنے میں صرف وقت باقی ہے۔
قانون نافذ کرنے والے اداروں کی صلاحیتوں میں تشویشناک خلا
دوسری جانب، رپورٹ میں افریقی سکیورٹی اداروں کی تیاری میں نمایاں کمی کی نشاندہی کی گئی ہے: 94 فیصد اداروں نے ڈیجیٹل فرانزک ٹولز کی کمی کی شکایت کی، صرف 8 فیصد انٹیلی جنس تجزیہ کاروں کے پاس مصنوعی ذہانت میں اعلیٰ مہارت ہے، جبکہ صرف 17 فیصد ممالک کے پاس 100 سے زائد اہلکاروں پر مشتمل سائبر کرائم یونٹس ہیں۔ 89 فیصد اداروں نے سرحد پار تعاون کو کامیاب تحقیقات میں سب سے بڑی رکاوٹ قرار دیا۔
رپورٹ کے مطابق "مجرم اب مشین کی رفتار سے کام کر رہے ہیں"، جبکہ قانون نافذ کرنے والے ادارے قانونی تقاضوں، بیوروکریسی اور تکنیکی صلاحیتوں کی کمی کے باعث پیچھے رہ گئے ہیں۔
1500 گرفتاریاں اور 100 ملین ڈالر کی ریکوری
تاہم، رپورٹ میں کچھ مثبت پیش رفت بھی سامنے آئی ہے: 2025 میں 17 ممالک نے سائبر جرائم کے خلاف قوانین بنائے یا ان میں ترمیم کی، جبکہ انٹرپول اور اس کے شراکت داروں کی چار بڑی کارروائیوں — "سرینگیٹی 2.0"، "کانٹینڈر 3.0"، "سینٹینل" اور "ریڈ کارڈ 2.0" — کے نتیجے میں 1500 سے زائد گرفتاریاں ہوئیں، سینکڑوں آلات ضبط کیے گئے اور 100 ملین ڈالر سے زائد کی رقوم واپس حاصل کی گئیں۔
انٹرپول کے سائبر کرائم یونٹ کے ڈائریکٹر نیل جیٹن نے کہا: "سائبر کرائم خطے کے لیے سب سے بڑے مجرمانہ خطرات میں سے ایک بن چکا ہے۔" ان کا کہنا تھا کہ "مصنوعی ذہانت سائبر حملے کے ہر مرحلے کو خودکار بنارہی ہے، چاہے وہ ریکی اور فشنگ ہو یا بلیک میلنگ اور فرار"، تاہم انہوں نے کہا: "جب ممالک تعاون کرتے ہیں تو سائبر مجرموں کے انفراسٹرکچر کی نشاندہی، اسے غیر فعال اور ختم کرنا ممکن ہے۔"
رپورٹ میں سفارش کی گئی ہے کہ ڈیجیٹل فرانزک صلاحیتوں کو یکجا کیا جائے، تفتیش کاروں میں مصنوعی ذہانت کی مہارت کو بنیادی تفتیشی ہنر کے طور پر فروغ دیا جائے، موبائل منی پلیٹ فارمز کو فوری فراڈ الرٹس کو سائبر کرائم یونٹس سے منسلک کرنے کا پابند بنایا جائے اور سرحد پار ڈیجیٹل شواہد کے تبادلے کے لیے علاقائی ہنگامی پروٹوکول بنایا جائے۔
